[Latest News][6]

خالد بن ولید

Khalid137

Muslim General, Khalid Bin Waleed

شمشیر بے نیام

سیدنا خالد بن ولیدؓ کی حیات پر عنایت اللہ التمش کے قلم سے لا زوال تحریر

قسط نمبر:  137
سالارِ اعلیٰ ابو عبیدہؓ نے جو قاصد مدینہ کو روانہ کیا تھا وہ تیز رفتار تھا۔ قاصدوں کی رفتار اس وجہ سے مزید تیز ہوجاتی تھی کہ راستے میں گھوڑے بدلنے کا انتظام موجود تھا۔ اب تو تمام تر علاقہ مسلمانوں کے قبضے میں تھا۔ قاصد پندرہ دنوں بعد امیر المومنینؓ کا حکم لے آیا۔
امیر المومنینؓ نے لکھا تھا کہ بیت المقدس سب سے پہلے فتح ہونا چاہیے لیکن اس کا محاصرہ کرنے سے پہلے رومیوں کی کمک کے راستے بند کرنا ضروری ہیں۔ عمرؓ کو یہاں تک معلوم تھا کہ قیساریہ میں رومی فوج کثیر تعداد میں موجود ہے جو بیت المقدس کو کمک اور دیگر مدد دے سکتی ہے۔ عمرؓ کو مدینہ میں موجود رہ کر بھی معلوم تھا کہ قیساریہ تک رومیوں کی مزید فوج سمندرکے راستے بھی پہنچ سکتی ہے۔ چنانچہ خلیفۃ المسلمین عمرؓ نے ابو عبیدہؓ کو حکم بھیجا کہ قیساریہ کا اڈہ ختم کرنا ضروری ہے۔
امیر المومنینؓ نے اپنے حکم اور ہدایات میں یہ بھی لکھا کہ انہوں نے یزیدؓ بن ابی سفیان کو حکم بھیج دیا ہے کہ وہ اپنے بھائی معاویہؓ کو قیساریہ کا محاصرہ کرنے اور رومیوں کے اس مضبوط اور خطرناک قلعے کو سر کرنے کیلئے فوراً بھیج دیں۔ تاکہ بیت المقدس کی رومی فوج کو قیساریہ سے اور قیساریہ کو سمندرکی طرف سے مدد نہ پہنچ سکے اور اس سے یہ فائدہ بھی ہوگا کہ قیساریہ اور بیت المقدس کا رابطہ ٹوٹ جائے گا۔ اس حکم نامے میں یہ بھی لکھاتھا کہ قیساریہ کی فتح کے فوراً بعد ابو عبیدہؓ بیت المقدس پر چڑھائی کریں گے۔
مدینہ سے یہ جو احکام مختلف سالاروں کو بھیجے گئے ان کے مطابق معاویہؓ نے قیساریہ کا محاصرہ کرلیا۔ وہاں کے رومی سالار کو توقع تھی کہ اطربون اس کی مدد کو آئے گا۔ اس توقع پر اس نے مسلمانوں کو اپنی طرف متوجہ رکھنے کایہ طریقہ اختیار کیا کہ دستوں کو قلعے سے باہر نکال کر حملے کرائے۔
ان حملوں کا تسلسل اور انداز ایسا تھا کہ محاصرے کا تو بس نام رہ گیا تھا۔ قلعے کے باہر خونریز لڑائی شروع ہو گئی۔ رومیوں کے حملوں کا طریقہ یہ تھا کہ قلعے کے دو دروازے کھلتے، دو تین دستے رکے ہوئے سیلاب کی مانند باہر آتے اورمسلمانوں پر بڑا شدید ہلہ بولے۔ کچھ دیر لڑ کر وہ پیچھے ہٹتے اور قلعے میں چلے جاتے اور دروازے پھر بند ہو جاتے۔
مسلمانوں نے ان حملوں کا مقابلہ اس طرح کیا کہ رومی دستے باہر آتے تو مسلمان ان کے عقب میں جانے کی کوشش کرتے کہ رومی قلعے میں واپس نہ جا سکیں۔ عقب میں جانا اس وجہ سے خطرناک ہو جاتا تھا کہ قلعے کی دیوار سے ان پر تیر آتے تھے، مسلمان رومیوں کے پہلوؤں کی طرف ہو جاتے اور تیروں کی بوچھاڑوں سے بہت سے رومیوں کو گرا لیتے۔
اس طرح رومیوں نے اتنا نقصان اٹھایا کہ وہ لڑنے کے قابل نہ رہے۔ قیساریہ کے رومی سالار نے اطربون پر یہ ثابت کرنے کیلئے کہ وہ بزدل نہیں ایک روز خود دو چار دستوں کو ساتھ لیا اور باہر نکل آیا۔ مسلمانوں پر ایسے حملے کئی بار ہو چکے تھے اس لئے انہیں یہ حملے روکنے کا تجربہ ہو گیا تھا، اب رومی سالار خود باہر آیا تو مسلمانوں نے پہلے سے زیادہ شجاعت کامظاہرہ کیا۔ کئی مجاہدین رومی سالار کو مارنے کیلئے آگے بڑھنے لگے لیکن اسے مارنا آسان نظر نہیں آتا تھا۔ وہ محافظوں کے حصار میں تھا۔
آخر وہ دہشت اپنااثر دکھانے لگی جو رومیوں پر طاری ہونے لگی تھی۔ وہ تو ہونی ہی تھی، وہ اپنے ساتھیوں کی لاشوں پر لڑ رہے تھے ۔پہلے حملوں میں جو رومی مارے گئے تھے ان کی لاشیں اٹھائی نہیں گئی تھیں۔ بہت سے دن گزر گئے تھے۔ پہلے دنوں کی لاشیں خراب ہو گئی تھیں اور ان کاتعفن پھیلا ہو اتھا۔
رومیوں پر دہشت تو پہلے ہی طاری تھی۔ کیونکہ ان کاسالار ان کے ساتھ باہر آگیا تھا۔ اس لیے ان کے حوصلے میں کچھ جان پڑ گئی تھی۔ لیکن ان کا سالار کسی مجاہد کی برچھی سے مارا گیا۔ رومیوں میں افراتفری مچ گئی اور وہ قلعوں کے دروازوں کی طرف بھاگنے لگے۔ دروازے کھل گئے اس سے مسلمانوں نے یہ فائدہ اٹھایا کہ وہ بھاگتے اور دہشت زدہ رومیوں کے ساتھ ہی قلعے میں داخل ہو گئے۔
اب قیساریہ مسلمانوں کا تھا ۔ جس سے یہ فائدہ حاصل ہوا کہ سمندر کی طرف سے رومیوں کو کمک نہیں مل سکتی تھی۔
…………bnb…………

قیساریہ کا سالار دل میں یہ افسوس لیے مر گیا کہ اطربون اس کی مدد کو نہ پہنچا۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ اطربون قیساریہ کے محاصرے کی اطلاع ملتے ہی اپنا لشکر لے کر بیت المقدس سے چل پڑا تھا لیکن مسلمان جانتے تھے کہ قیساریہ کو بچانے کیلئے بیت المقدس سے مدد آئے گی۔ انہوں نے مدد کو روکنے کا انتظام کر رکھا تھا۔
عمروؓ بن العاص نے اپنے دو سالاروں ، علقمہ بن حکیم، اور مسروق مکّی کو بیت المقدس کی طرف اس حکم کے ساتھ بھیج دیا تھا کہ بیت المقدس سے رومی فوج نکلے تو اسے وہیں روک لیں۔
ایک جاسوس نے اطلاع دی کہ اطربون اپنی فوج کے ساتھ اجنادین کی طرف پیش قدمی کر رہا ہے۔
عمروؓ بن العاص نے سالار علقمہ بن حکیم اور سالار مسروق مکی کو بیت المقدس کی طرف بھیج دیا اور خود اطربون کے پیچھے گئے لیکن اجنادین تک انہیں کوئی رومی دستہ نظر نہ آیا۔ زمین بتا رہی تھی کہ اجنادین کی طرف فوج گئی ہے۔ شہر کے باہر کچھ لوگ ملے۔ انہوں نے بتایا کہ رومی فوج آئی تھی اور قلعے میں داخل ہو گئی ہے۔
اجنادین دوسرے شہروں کی طرح قلعہ بند شہر تھا۔ اس کے اردگرد گہری اور چوڑی خندق تھی جسے پار کرنا ممکن نظر نہیں آرہا تھا۔ عمروؓ بن العاص نے شہرِ پناہ کے اردگرد گھوم پھر کر دیکھا۔قلعہ سر کرنے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی۔ انہوں نے ایک نائب سالار کو (تاریخ میں اس کا نام نہیں لکھا) اپنی طرف سے ایلچی بنا کر صلح کے پیغام کے ساتھ قلعے میں بھیجنے کا فیصلہ کیا۔
’’یہ ضروری نہیں کہ تم صلح کرا کہ ہی آؤ۔‘‘ …عمروؓ بن العاص نے ایلچی کو ہدایات دے کر آخری بات یہ کہی۔ …’’میں تمہیں جاسوسی کیلئے اندر بھیج رہا ہوں۔ ایک تو یہ اندازہ کرنا کہ اندر فوج کتنی ہے۔ اس کے علاوہ جو کچھ بھی دیکھ سکو دیکھنا اور جائزہ لینا کہ اطربون کا اپنا حوصلہ کتنا مضبوط ہے۔‘‘
…………bnb…………

ایلچی اپنے محافظوں کے ساتھ قلعے میں چلاگیا۔ وہ واپس آیا اور عمروؓ بن العاص کو اپنے مشاہدات بتائے۔ عمروؓ بن العاص مطمئن نہ ہوئے۔
’’کیایہ کام میں خودنہ کروں؟‘‘ …عمروؓ بن العاص نے اپنے سالاروں سے کہا۔ …’’جو میں معلوم کرنا چاہتا ہوں وہ صرف میری آنکھیں دیکھ سکتی ہیں۔‘‘
’’ابن العاص!‘‘ …ایک سالار نے کہا۔ …’’کیا خود جا کر تواپنے آپ کو خطرے میں نہیں ڈال رہا؟‘‘
’’خدا کی قسم!‘‘ …ایک اور سالار بولا۔ …’’اسلام تجھ جیسے سالار کا نقصان برداشت نہیں کر سکے گا۔‘‘
’’کیا اطربون مجھے قید کر لے گا؟‘‘ …عمروؓ بن العاص نے پوچھا۔ …’’کیا وہ مجھے قتل کر دے گا؟‘‘
’’ہارے ہوئے دشمن سے اچھائی کی توقع نہ رکھ ابن العاص!‘‘
’’میں عمرو بن العاص کے روپ میں نہیں جاؤں گا۔‘‘ …عمروؓ بن العاص نے کہا۔ …’’میں اپنا ایلچی بن کر جاؤں گا۔ ہمیں یہ قلعہ لینا ہے۔ میں ہر طریقہ آزماؤں گا۔‘‘
عمروؓ بن العاص نے بھیس بدلا اور یہ اعلان کرا کے کہ مسلمانوں کاایلچی صلح کی شرائط طے کرنے کیلئے قلعے میں آنا چاہتا ہے ، قلعے کا دروازہ کھلوایا۔ رومیوں نے مضبوط تختے خندق پر پھینک کر انہیں خندق پار کروائی اور قلعے کے اندر اپنے سالار اطربون کے پاس لے گئے۔
مختلف مؤرخون نے یہ واقعہ لکھاہے ان کے مطابق، عمروؓ بن العاص نے اپنا روپ اور حلیہ تو بدل لیا تھا لیکن ان کے انداز اور بولنے کے سلیقے اور دو چار باتوں سے اطربون کو شک ہوا کہ یہ شخص ایلچی نہیں ہو سکتا۔ عمروؓ بن العاص سالاری کے تدبر اور استدلال کو نہ چھپا سکے۔
اطربون تجربہ کار سالار تھا اور مردم شناس بھی تھا۔ وہ کوئی بہانہ کرکے باہر نکل گیا اور اپنے محافظ دستے کے کماندار کو بلایا۔
’’یہ عربی مسلمان جو میرے پاس بیٹھا ہے ابھی واپس جائے گا۔‘‘ …اطربون نے کماندار سے کہا۔ …’’ایک محافظ کوراستے میں بٹھا دو۔ میں اس مسلمان کو اسی راستے سے بھیجوں گا۔ یہ زندہ نہ جائے، محافظ اسے قتل کردے۔ یہ شخص مسلمانوں کا سالار عمرو بن العاص ہے۔ اگر سالار نہیں تو یہ عمرو بن العاص کا کوئی خاص مشیر ہے اور مجھے یقین ہے کہ عمرو بن العاص اسی کے مشوروں پر عمل کرتا ہے۔ اگر میں نے اسے قتل نہ کیا تو میں سلطنتِ روما سے غداری کروں گا۔‘‘
مؤرخ لکھتے ہیں کہ جس طرح اطربون اٹھ کر باہر نکل گیا تھا۔ اس سے عمروؓ بن العاص کو اس کی نیت پر شک ہوا۔ وہ واپس آیا تو عمروؓ بن العاص نے اس کے چہرے پر اور اس کی باتوں میں نمایاں تبدیلی دیکھی۔ وہ بھانپ گئے کہ اطربون کی نیت صاف نہیں۔انہوں نے پینترا بدلا۔
’’معزز سالار!‘‘ …عمروؓ بن العاص نے کہا۔ …’’ہم دس جنگی مشیر ہیں جو مسلمانوں کے ساتھ آئے ہیں۔میں ان میں سے ایک ہوں۔میں نے آپ کی شرائط سن لی ہیں۔ میں خود تو فیصلہ نہیں کر سکتا۔ عمرو بن العاص کو مشورہ دوں گا کہ وہ آ پ کی شرائط قبول کر لیں۔ مجھے امید ہے کہ میرے مشورے پر عمل ہوگا اور مزید خون نہیں بہے گا۔‘‘
اطربون دھوکے میں آگیا، وہ عمروؓ بن العاص کے ساتھ باہر نکلا اور محافظ دستے کے کماندار کو اشارہ کیا کہ اس شخص کو قتل کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس طرح عمروؓ بن العاص زندہ قلعے سے نکل آئے۔ باہر آکر انہوں نے للکار کر کہا کہ اطربون ، میں عمرو بن العاص ہوں۔
اس کے بعد اجنادین کے میدان میں دونوں فوجوں کے درمیان جو معرکہ ہوا وہ جنگِ یرموک جیسا خونریز تھا۔ ہم اس معرکے کی تفصیلات بیان نہیں کررہے کہ اطربون نے قلعے سے باہر آکر لڑنے کا فیصلہ کیوں کیا تھا اور عمروؓ بن العاص نے کیسی کیسی چالیں چل کر رومیوں کو بے تحاشا جانی نقصان پہنچا کرپسپا کیا۔‘‘
اطربون اپنے بچے کچھے دستوں کو ساتھ لے کر بیت المقدس پہنچا اور وہاں قلعہ بند ہو گیا۔ اس معرکے میں مسلمانوں نے بہت جانی نقصان اٹھایا۔
…………bnb…………

جب ابو عبیدہؓ کو اطلاع ملی کہ قیساریہ پر اپنا قبضہ ہو گیا ہے تو انہوں نے بیت المقدس کی طرف پیش قدمی کا حکم دے دیا۔ہراول میں خالدؓ اپنے مخصوص رسالے کے ساتھ جا رہے تھے۔ ابو عبیدہؓ کو بھی یہ بتا دیا گیا تھا کہ اطربون لڑنے کے قابل نہیں رہا۔ پھر بھی احتیاط کی ضرورت ہے۔
بیت المقدس کا اندرونی حال کچھ اور ہی تھا۔ وہی اطربون جس نے قیساریہ کے سالار کوبزدل کہاتھا۔ وہ اب بیت المقدس کے بڑے پادری اسقف سفرینوس کے پاس شکست خوردگی کے عالم میں بیٹھا تھا۔
’’محترم سالار!‘‘ …سفرینوس نے اسے کہا۔ …’’میں اس کے سوا اور کیا کرسکتا ہوں کہ یہ مقدس شہر مسلمانوں کے حوالے کردوں۔ کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ یہ کام آپ اپنے ہاتھوں کریں؟‘‘
’’نہیں محترم باپ!‘‘ …اطربون نے کہا۔ …’’میں یہ نہیں کہلوانا چاہتا کہ اطربون نے مسلمانوں کے آگے ہتھیار ڈالے تھے۔‘‘
’’کیا آپ اس شہر کے تقدس کو بھول گئے ہیں؟‘‘ …سفرینوس نے کہا۔ …’’یہ وہ زمین ہے جس پر حضرت عیسیٰ کو مصلوب کیا گیا تھا۔ کیا آپ محسوس نہیں کرتے کہ اس سرزمین کی آبرو کی خاطر ہم اپنی تمام تر فوج کو قربان کردیں؟‘‘
’’کیا آپ فوج کی حالت نہیں دیکھ رہے؟‘‘ …اطربون نے کہا۔ …’’نصف کے قریب فوج ماری گئی یا زخمی ہو گئی ہے۔ اس فوج کا جذبہ اور حوصلہ پہلے ہی ٹوٹ پھوٹ چکا تھا۔ اب میں بڑی مشکل سے ان چند ایک دستوں کو اجنادین سے بچا کر لایا ہوں۔‘‘
’’محترم سالار!‘‘ …اسقف سفرینوس نے کہا۔ …’’اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے مسلمانوں کی فوجی برتری کو تسلیم کرلیا ہے۔ آپ روم کی عظیم جنگی روایات کومسلمانوں کے قدموں تلے پھینک رہے ہیں۔ آپ کچھ دن مقابلہ کرکے دیکھیں ۔ مسلمان آسمان کی مخلوق تو نہیں۔ وہ بیشک بہترین لڑنے والے ہیں لیکن آخر انسان ہیں۔ وہ یقیناً تھک کر چور ہو چکے ہیں۔ آپ اپنا حوصلہ قائم رکھیں۔ وہ پہلے محاصرہ کریں گے جس میں کئی روز گزر جائیں گے۔ اس دوران آپ اپنا اور اپنے دستوں کا حوصلہ مضبوط کریں۔‘‘
مسلمان بیت المقدس کی طرف تیز رفتاری سے بڑھے چلے جا رہے تھے اور بیت المقدس میں رومی سالار اطربون اپنے آپ کو لڑنے کیلئے تیار کر رہا تھا لیکن وہ اپنی فوج کی حالت دیکھتا تو اس کا لڑنے کاجذبہ دم توڑنے لگتا تھا۔ اس پر اسقف سفرینوس کی باتوں کا کوئی خاص اثر نہیں ہو رہا تھا۔ جب اسقف نے دیکھا کہ اطربون ذہنی طور پر شکست قبول کر چکا ہے تو اس نے اطربون کو جذباتی باتوں سے بھڑکانا اور شرمسارکرنا شروع کر دیا۔ اس کا اتنا اثر ہوا کہ اطربون نے مقابلہ کرنے کا ارادہ کر لیا۔
…………bnb…………

اسلامی فوج پہنچ گئی اور بیت المقدس کا محاصرہ کر لیا۔ دیواروں پرتیر انداز برچھیاں پھینکنے والے کثیر تعداد میں کھڑے تھے۔ ان کا انداز بتا رہا تھا کہ وہ مسلمانوں کو قلعے کے قریب نہیں آنے دیں گے۔ مسلمان سالار قلعے کے اردگرد گھوم پھر کر دیکھ رہے تھے کہ کہیں سے دیوار پر چڑھا جا سکتا ہے یا کوئی ایسی جگہ ہے جہاں سے سرنگ لگا کر اندر جانے کا راستہ بنایا جا سکے۔
کسی وجہ سے محاصرہ مکمل نہیں تھا۔ محاصرے میں ایک جگہ شگاف تھا۔ مسلمان سالاروں نے جب دیکھا کہ شہرِ پناہ محفوظ ہے اور اس کا دفاع بھی خطرناک ہے تو انہوں نے محاصرے کو طول دینا مناسب سمجھا۔ اس طرح محاصرہ طول پکڑتا گیا اور بہت دن گزر گئے ۔اس دوران مجاہدین نے دروازوں پر ہلے بولے، زخمی ہوئے اور جانیں بھی قربان کیں لیکن دیوار سے آنے والے تیروں اور برچھیوں نے کسی بھی دروازے تک پہنچنے نہ دیا۔
آخر ایک روز بڑے دروازے کے اوپر سے ایک بڑی بلند آواز سنائی دی۔
’’کیا تمہارا سالار صلح کیلئے آگے آئے گا؟‘‘ …دیوار کے اوپر سے اعلان ہوا۔ …’’ہم تمہاری شرطیں معلوم کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
ابوعبیدہؓ آگے گئے۔ خالدؓ بھی ان کے ساتھ تھے۔ انہوں نے کسی سے کہا کہ وہ بلند آواز سے یہ جواب دے کہ صلح کی شرائط طے کرنے کیلئے تمہارا سالار باہر آئے۔
مسلمانوں کی طرف سے یہ اعلان ہوا تو تھوڑی ہی دیر بعد اسقف سفرینوس چند ایک محافظوں کے ساتھ قلعے کے بڑے دروازے سے باہر آیا۔ اس کے ساتھ ایک بڑی صلیب بھی تھی۔
’’کیاکوئی سالار موجود نہیں؟‘‘ …ابو عبیدہؓ نے اسقف سے پوچھا۔ …’’سالار موجود ہے۔ ‘‘اسقف نے جواب دیا۔’’ لیکن بیت المقدس وہ شہر ہے جس کی اہمیت اور احترام کو اسقف ہی جان سکتا ہے۔ اگرمیں نہ چاہتا تو ہماری فوج کا آخری سپاہی بھی مارا جاتا۔شہر کی اینٹ سے اینٹ کیوں نہ بج جاتی۔ یہاں سے صلح کا پیغام آپ کے کانوں تک نہ پہنچتا۔ میں اس شہر کو انسانی خون کی آلودگی سے پاک رکھناچاہتا ہوں۔ رومی سالار میرے زیرِ اثر ہیں۔ میں نے انہیں صلح کیلئے تیار کر لیا ہے۔ لیکن آپ کی شرطیں سننے سے پہلے میں اپنی صرف ایک شرط پیش کروں گا اسے آپ قبول کرلیں تو ہم آپ کی باقی تمام شرائط قبول کرلیں گے۔‘‘
’’محترم اسقف!‘‘ …ابوعبیدہؓ نے کہا۔ …’’یہ شہر جتنا آپ کیلئے مقدس ہے اتنا ہی ہمارے لیے بھی قابلِ احترام ہے۔ یہ پیغمبروں اور نبیوں کا شہر ہے۔ ہم آپ کی اس خواہش کا احترام کریں گے کہ اس زمین کے تقدس کو انسانی خون سے پاک رکھاجائے۔ آپ اپنی شرط بتائیں۔‘‘
’’سالارِ محترم!‘‘ …اسقف سفرینوس نے کہا۔ …’’یہ جانتے ہوئے کہ صلح کی شرائط آپ کے ساتھ ہی طے کی جا سکتی ہیں، میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ اپنے امیر المومنین کو یہاں بلائیں۔ میں شرائط ان کے ساتھ طے کروں گا۔ میں چاہتا ہوں کہ یہ شہر اپنے ہاتھوں ان کے حوالے کروں۔ پیغمبروں کے رشتے سے یہ شہر جتنا آپ کا ہے اتنا ہی ہمارا ہے۔‘‘
اسقف سفرینوس نے بیت المقدس کے متعلق ایسی جذباتی باتیں کیں کہ مسلمان سالار متاثر ہوئے اور انہوں نے اسقف کی اس شرط کو تسلیم کر لیا کہ امیر المومنین عمرؓ کو بلایا جائے۔ اسقف کوبتا دیا گیا کہ امیر المومنینؓ صلح کی شرائط طے کرنے کیلئے آئیں گے۔
…………bnb…………
ہر قسط کے آخر میں اپنی قیمتی آراء سے مستفید فرمائیں۔

ھفت روزہ اھل حدیث

مرکزی جمعیت اھل حدیث پاکستان کا ترجمان، ہفت روزہ اھل حدیث، جامع، تحقیقی، علمی سیاسی ودیگر موضوعات پر مشتمل مضامین کا مطالعہ فرمائیں۔ خود پڑھیں اور احباب کے ساتھ شیئر کریں۔ فجزاکم اللہ خیرا۔

No comments:

Post a Comment

Start typing and press Enter to search