[Latest News][6]

خالد بن ولید

Khalid139

Muslim General, Khalid Bin Waleed

شمشیر بے نیام

سیدنا خالد بن ولیدؓ کی حیات پر عنایت اللہ التمش کے قلم سے لا زوال تحریر

قسط نمبر:  139
امیر المومنین عمرؓ بن الخطاب، عمروؓ بن العاص اور شرحبیلؓ بن حسنہ کو ساتھ لے کر بیت المقدس میں داخل ہوئے۔ اسقف سفرینوس نے ان کا استقبال کیا۔ ایک روز پہلے صلح نامے پر دستخط ہو چکے تھے اور سفرینوس نے صلح نامہ شہر کے باشندوں کو پڑھ کر سنایا، لوگوں پر اس سے پہلے خوف و ہراس طاری تھا۔ انہوں نے پہلے فاتحین کا ظلم و تشدد دیکھا تھا۔ رومی جب بیت المقدس میں آئے تھے تو شہنشاہِ ہرقل کے حکم سے اس شہر کے باشندوں پر قیامت ٹوٹ پڑی تھی۔ لوگوں کو سرکاری مذہب قبول کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اتنی آسانی سے اپنا مذہب کون تبدیل کرتا ہے۔ جن لوگوں نے ہرقل کا مذہب قبول نہ کیا ان کے ناک کان کاٹ دیئے گئے اور ان کے گھرتک مسمار کر دیئے گئے تھے۔ انہیں فوج میں جبری طور پر بھرتی کر لیا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ وہ محکوموں اور مظلوموں جیسی زندگی گزار رہے تھے۔
مسلمانوں سے تو وہ اور زیادو خوفزدہ تھے۔ انہیں بتایا گیا تھا کہ مسلمان جس شہر کو فتح کرتے ہیں وہیں کے رہنے والوں کو زبردستی مسلمان بناتے ہیں ، گھر لوٹ لیتے ہیں خوبصورت عورتوں کو اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔بیت المقدس کے باشندوں نے رومی فوج کی زبان سے سنا تھا کہ مسلمان بڑے ظالم ہیں۔ یہ سپاہی دراصل میدانِ جنگ کی باتیں سناتے تھے اور شہری یہ سمجھ کر خوفزدہ تھے کہ مسلمان وحشی اور خونخوار ہیں۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ مسلمان صرف میدانِ جنگ میں خونخوار ہیں۔
بیت المقدس کے شہریوں نے جب معاہدے کی تحریر سنی پھر یہ دیکھا کہ مسلمان فوج نے کسی شہری کی طرف دیکھا تک نہیں تو وہ خوشیاں منانے لگے۔
امیرالمومنینؓ نے علقمہ بن مجزز کو بیت المقدس کا حاکم یا امیر مقرر کیا۔
اسقف سفرینوس نے امیرالمومنین عمرؓ بن الخطاب کو شہر کی سیر کرائی۔ انہیں قدیم تہذیبوں اور قوموں کے آثار دکھائے، یہودیوں اور عیسائیوں کی عبادت گاہیں دکھائیں، بیت المقدس میں ایسے بے شمار آثار تھے جن میں محرابِ داؤد بھی ہے اور صخرہ یعقوب بھی۔ یہ وہ پتھر ہے جس کے متعلق روایت ہے کہ رسولِ کریمﷺ اس پر کھڑے ہوئے اور معراج کو گئے تھے۔
شہر میں گھومتے پھرتے امیر المومنینؓ کلیسائے قیامت کے سامنے سے گزرے۔ ظہر کی نماز کاوقت ہو گیا۔انہوں نے اِدھر اُدھر دیکھا کہ نماز کی کوئی جگہ مل جائے۔
’’خلیفۃ المسلمین!‘‘ … اسقف نے التجا کی۔ … ’’میرے لیے یہ بات باعثِ فخر ہوگی کہ آپ کلیسا کے اندر نماز پڑھیں۔‘‘
’’نہیں!‘‘ … خلیفہ عمرؓ نے کہا۔ … ’’میں اس کلیسا کااحترام کرتا ہوں لیکن میں اس میں نماز نہیں پڑھوں گا کہ یہ صلح کے معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی۔ اگر آج میں نے آپ کے کہنے سے یہاں نماز پڑھ لی تو میرے بعد مسلمان اس کو رسم بنالیں گے اور کلیسا میں نماز پڑھنے کو اپناحق بنالیں گے۔‘‘
کلیسائے قیامت وہ جگہ ہے جہاں حضرت عیسیٰؑ کو مصلوب کیا گیا تھا۔ یہاں یہ کلیسا تعمیر کیا گیاتھا۔ اس سے آگے کلیسائے قسطنطین تھا۔ اسقف نے اس کے دروازے میں مصلےٰ بچھا دیا لیکن امیر المومنینؓ نے وہاں بھی نماز نہ پڑھی۔ انہوں نے نماز مسجدِ اقصیٰ میں پڑھی۔
’’محترم اسقف!‘‘ … امیر المومنین عمرؓبن الخطاب نے سفرینوس سے پوچھا۔ … ’’رومی آپ کا ساتھ کیوں چھوڑ گئے ہیں؟ ان کا سالار اطربوں کہاں گیا؟ سنا تھا وہ ہرقل کا ہم پلہ ہے۔‘‘
’’بھاگ گیا۔‘‘ … سفرینوس نے جواب دیا۔ … ’’بھاگ گیا … کوئی شک نہیں کہ وہ ہرقل کا ہم پلہ تھا۔ اس نے آپ کو شکست دینے کے بڑے اچھے منصوبے بنائے تھے۔ ا س نے قیساریہ کے سالار کو آپ کی فوج سے مقابلے کیلئے تیار کیا تھا۔ لیکن آپ کے سالاروں کی چال نے اطربون کے منصوبے تباہ کر دیئے۔ اس سے پہلے وہ آپ کی فوج کے مقابلے میں نہیں آیا تھا …‘‘
’’وہ دیکھ رہا تھا کہ اس کی فوج میں لڑنے کا جذبہ ختم ہو گیاتھا۔ یرموک اور دوسری جگہوں سے بھاگے ہوئے بہت سے سپاہی یہاں آگئے تھے۔ انہوں نے یہاں کی فوج کو ایسی باتیں سنائیں جن سے سب کا حوصلہ بری طرح متاثر ہوا۔ اطربون نے اپنی فوج کو تیار کر لیا تھا۔ اسے جب اطلاع ملی کہ مسلمانوں نے قیساریہ کو محاصرے میں لے لیاہے تو وہ اپنی فوج کو ساتھ لے کر قیساریہ کا محاصرہ توڑنے کیلئے نکلا لیکن آپ کے کسی سالار نے اسے راستے میں روک لیا۔ اس نے پہلی بار مسلمانوں سے ٹکر لی اور اپنی بہت سی فوج مروا کر بری حالت میں واپس آیا۔‘‘
’’وہ جو اپنے ہارے ہوئے سالاروں کو بزدل کہتا تھا اور جس نے بیت المقدس کے دستوں کو لڑنے کیلئے تیار کیا وہ خود بزدل بن گیا اور ا س کا اپناحوصلہ جواب دے گیا۔ اس نے یہاں سے خزانہ نکالنا شروع کر دیا اور سمندر کے راستے قسطنطنیہ لے گیا۔ زیادہ تر فوج بھی اس کے ساتھ چلی گئی۔ یہ فوج برائے نام تھی جو میں نے قلعے کی دیوارپر کھڑی کر دی تھی۔ میں نے آپ کے ساتھ معاہدے کی شرط اس لئے پیش کی تھی کہ جو فیصلہ خلیفہ کر سکتے ہیں وہ سالار نہیں کر سکتے۔ میں اس شہر کو اس کے باشندوں کے جان و مال کو بچانا چاہتا تھا۔‘‘
اسقف سفرینوس نے عمرؓ بن الخطاب کو یہ نہ بتایا کہ اطربون اور سفرینوس نے مل کر نہ صرف بیت المقدس سے خزانہ نکالا تھا بلکہ گرجوں کے سونے اور چاندی کے بیش قیمت ظروب بھی نکلوادیئے تھے۔ ان میں صلیبِ اعظم بھی تھی۔ سفرینوس نے امیرالمومنینؓ کو مدینہ سے اس لیے بلوایا تھا کہ وہ خزانہ ، ظروب رومی فوج اور ا س کا مال و اموال نکلوانے کیلئے وقت حاصل کرنا چاہتا تھا۔ جتنے وقت میں امیرالمومنینؓ پہنچے تھے اتنے وقت میں بیت المقدس سے وہ سب کچھ نکل گیا تھا جو سفرینوس اور اطربون نکالنا چاہتے تھے۔
…………bnb…………

اپریل ۶۳۷ ء (ربیع الاول ۱۶ھ) کے دن تھے جب خلیفۃالمسلمین عمرؓ بن الخطاب بیت المقدس میں دس دن قیام کرکے رخصت ہوئے۔ رخصت ہونے سے پہلے انہوں نے تفصیل سے جائزہ لیا تھا کہ رومی کہاں کہاں موجود ہیں۔ مجموعی طور پر رومی شکست کھاچکے تھے۔ ان کا شہنشاہ ہرقل شام سے رخصت ہو چکا تھا۔ رومی فوج کے نامی گرامی سالار مارے جا چکے تھے۔ کچھ اہم مقامات تھے جن پر ابھی رومیوں کا قبضہ تھا۔ وہاں سے رومیوں کو نکالنا ضروری تھا۔
ایسے مقامات میں ایک کا نام قیساریہ تھا جو بحیرہ روم کی بندرگاہ تھی۔ یہاں سے رومیوں کو نکالنابہت ضروری تھا۔ کیونکہ رومیوں کا بحری بیڑہ ابھی بالکل صحیح حالت میں موجود تھا اور یہ بیڑہ بڑا طاقتور تھا اسے رومی مسلمانوں کے خلاف استعمال نہیں کر سکتے تھے۔ کیونکہ مسلمانوں نے سمندری لڑائی نہیں لڑنی تھی۔ البتہ یہ بیڑہ کمک لانے کیلئے استعمال ہوتاتھا۔کمک اتارنے کیلئے قیساریہ کی بندرگاہ استعمال ہوتی تھی۔
امیرالمومنینؓکے حکم کے مطابق قیساریہ سے پہلے بیت المقدس کو محاصرے میں لیا گیاتھا۔ بیت المقدس لے لیا گیاتو امیرالمومنین عمرؓ نے یزیدؓ بن ابی سفیان کو حکم دیا کہ وہ قیساریہ کو محاصرے میں لے لیں۔
’’ابن ابی سفیان!‘‘ … عمرؓ نے کہا۔ … ’’ مت سوچنا کہ تو اس قلعے کو فوراً سر کر لے گا۔ بہت مضبوط قلعہ بندجگہ ہے۔ رومی یہ جگہ اتنی آسانی سے نہیں دیں گے۔ ہلے بول بول کر اپنی طاقت ضائع نہ کرتے رہنا۔ قیساریہ میں رومیوں کی تعداد زیادہ ہے، اور وہاں رسدکی بھی کمی نہیں۔ دشمن یہی خواہش کرے گا کہ تو اس کے قلعے کی دیواروں سے ٹکراتا رہے اور اتنا کمزور ہو جائے کہ تو محاصرہ اٹھا لے یا تجھے کمزور پاکر دشمن باہر آجائے اور تیرے دستوں پر ایسا حملہ کردے کہ تو پسپا بھی نہ ہو سکے۔‘‘
’’تجھ پر اﷲ کی رحمت ہو ابو سفیان!‘‘ … عمرؓنے کہا۔ … ’’رومیوں کو کمک مل گئی تو ہمارے لیے بہت مشکل پیدا ہو جائے گی۔ محاصرے کو طول دو اور کمک کو روکے رکھو۔‘‘
عمرؓ بن الخطاب خلیفہ تھے۔ امیرالمومنینؓ تھے لیکن ان کا یہ دور بادشاہوں جیسا اور آج کل کے سربراہانِ مملکت جیسا نہیں تھا کہ گئے، کسی کو شاباشی دی، کسی کو انعام واکرام سے نوازا اور آگئے۔ انہوں نے تمام تر علاقے کے احوال و کوائف معلوم کئے۔ انہیں جنگی نقطہ نگاہ سے دیکھا۔ اپنی فوج اور دشمن کے لشکر کی کیفیت کا جائزہ لیا اور اس کے مطابق احکام صادرکیے۔ ان کے مطابق سالار اپنے اپنے مقامات پر چلے گئے۔
شام کے شمالی علاقوں میں رومی کہیں کہیں قلعہ بندتھے۔ انہیں امید تھی کہ ہرقل جہاں کہیں بھی ہے کمک ضرور بھیجے گا۔ مسلمان اس کوشش میں تھے کہ رومیوں کی کمک نہ آسکے۔ اس کوشش کی ایک کڑی یہ تھی کہ یزیدؓ اپنے دستوں کو لے کر قیساریہ روانہ ہو گئے اور اس شہر کو جو بندرگاہ بھی تھا محاصرے میں لے لیا۔
سالار عمروؓ بن العاص اور شرحبیل ؓبن حسنہ فلسطین اور اردن کو روانہ ہو گئے۔ ان کے ذمے یہ کام تھا کہ جن علاقوں سے انہوں نے رومیوں کو بے دخل کیا تھا ان علاقوں پر قبضہ کرکے شہری انتظامیہ اور محصولات کے نظام کو بحال اور رواں کیاجائے اور ان جگہوں کے دفاع کوبھی مستحکم کیا جائے۔ رومیوں کی طرف سے جوابی حملے کا امکان موجود تھا۔
سپہ سالار ابو عبیدہؓ دمشق کو اپنا مرکز بنانے کیلئے چلے گئے۔ ان کے ساتھ مجاہدین کی جو فوج تھی اس کی نفری سترہ ہزار تھی۔
…………bnb…………

قنسرین ایک قلعہ بندمقام تھا جس میں رومی فوج موجود تھی۔ ابو عبیدہؓ اس قلعے کو محاصرے میں لے کر وہاں سے رومیوں کو نکالنے جارہے تھے۔ یہ ایک مضبوط قلعہ تھا جس میں رومیوں کی تعداد خاصی زیادہ تھی۔ ابن الولیدؓ مجاہدین کی فوج کے ہراول میں تھے۔ ان کے ساتھ چار ہزار گھوڑ سواروں کا مخصوص رسالہ تھا جو گھوم پھر کر لڑنے کیلئے تیار کیا گیاتھا۔
قنسرین میں ایک مشہور رومی سالار منیاس تھا۔ا س نے دیکھ بھال کیلئے دور دور تک اپنے آدمی پھیلا رکھے تھے ان میں سے ایک آدمی سر پٹ گھوڑا دوڑاتا آیا اور سیدھا منیاس کے پاس گیا۔ اس نے منیاس کو بتایا کہ مسلمانوں کا ایک لشکر آرہا ہے جس کے ہراول میں گھوڑ سوار ہیں۔ اس نے تعداد تین اور چار ہزار کے درمیان بتائی اور یہ بھی بتایا کہ ہراول کتنی دور ہے۔منیاس نے بڑی اجلت سے اپنی فوج کو تیار کیا۔
’’سلطنتِ روما کی عظمت کے پاسبانو!‘‘ … اس نے اپنی فوج کے حوصلے میں جان ڈالنے کیلئے جوشیلے انداز میں کہا۔ … ’’وہ بزدل تھے جنہوں نے اپنے اوپر عرب کے بتوں کا خوف طاری کر لیا تھا۔ تم میں عیسائی عرب بھی ہیں ۔اگر مسلمان اتنے بہادر ہیں تو تم بھی اتنے ہی بہادر ہو۔ عرب کے مسلمان تم میں سے ہیں۔ تم بھی اسی ریت کی پیداوار ہو اور رومیوں اس دن کو یاد کرو جب تم فاتح کی حیثیت سے اس سر زمین پر آئے تھے وہ تمہارے باپ اور داد ا تھے۔ تصور میں لاؤ کہ اس وقت ان کے سر کتنے اونچے اور سینے کتنے چوڑے تھے اور آج سوچو ان کی روحوں کو کتنی شرمساری ہو رہی ہوگی۔‘‘
’’مت سوچو کہ شہنشاہ ہرقل بھاگ گیاہے۔ روم کی عظمت کو صلیبِ اعظم کو اور بیت المقدس کی آن کو اپنے سامنے رکھو۔ پھر سامنے رکھو اپنے سالار اطربون کی بے غیرتی کو، جس نے عیسیٰؑ کے شہر یسوع مسیح کے مسکن کو تمہارے مذہب اور تمہارے عقیدوں کے دشمن کے حوالے کر دیا ہے۔ … تصور میں لاؤ اپنی بیٹیوں اور اپنی عورتوں کو جو مسلمانوں کے بچے پیدا کریں گی۔ … اپنے آپ کودیکھو تم ہار گئے تو باقی عمر کیلئے مسلمانوں کے غلام بن جاؤ گے۔ آج تم کس شان سے کیسے جاہ جلال سے گھوڑوں پر سوار ہوتے ہو، تم نے اگر ہتھیار ڈال دیئے تو تم گھوڑے کی سواری کو بھی ترسو گے۔ تم اصطبل کے ملازم ہو گے اور گھوڑوں کی غلاظت صاف کیا کرو گے۔‘‘
مت خون گرما ہمارا اے سالار!‘‘ … ایک سوار نے بڑی ہی بلند آواز میں کہا۔ … ’’کیا تو سمجھتا ہے کہ ہم لڑنے سے منہ موڑ رہے ہیں؟ کیاتجھے ہماری جرأت اور غیرت پر شک ہے؟‘‘
’’اے تن ومند گھوڑے کے بہادر سوار!‘‘ … منیاس نے کہا۔ … ’’میں شک کیوں نہ کروں؟ ہمارا کون سا سالار ہے جو میدان سے نہیں بھاگا یامارا نہیں گیا؟ اطربون جو ہرقل کا ہم پلہ تھا کتنے دعوے کرتا تھا مسلمانوں کو کچل دینے کے، اب وہ کہاں ہے؟ ایک دن بھی نہیں لڑا اور ایلیا (بیت المقدس) سے بغیر لڑے بھاگ گیا۔ … کیا اسقفِ اعظم سفرینوس کو تم اپنامذہبی پیشوا مانو گے جس نے قلعے سے باہر جاکر مسلمانوں کے خلیفہ کا استقبال کیا اور اسے کہا کہ کلیسائے قیامت میں نماز پڑھو۔ اس نے یہ بھی نہ سوچا کہ وہ اپنی عبادت گاہ اپنے مذہب کے دشمن کے حوالے کر رہاہے۔ تم نے ثابت کرنا ہے کہ تم اتنے بزدل اور بے غیرت نہیں۔ اگر تم ثابت قدم رہے تو شاید کمک آجائے مگر مجھے کمک آنے کی کوئی امید نہیں، نہ میں کمک کی ضرورت محسوس کرتا ہوں۔‘‘
’’ہم لڑیں گے سالارِ محترم!‘‘ … پہلے ایک پھر کئی آوازیں بلند ہوئیں۔ … ’’ہمیں بزدل اور بے غیرت نہ کہہ سالار۔ آزما کے دیکھ ،باتوں میں وقت ضائع نہ کر۔ ہم ایک دن میں محاصرہ توڑ دیں گے۔‘‘
’’ہم محاصرے تک نوبت نہیں آنے دیں گے۔‘‘ … سالار منیاس نے کہا۔ … ’’ہم دشمن کو قلعے سے دور راستے میں روکیں گے۔ میں تم سے آگے ہوں گا۔‘‘
مؤرخوں نے لکھا ہے کہ رومی سالار منیاس جرات مند سالار تھا جس کی جارحانہ قیادت مشہورتھی اور اس کی دوسری شہرت یہ تھی کہ اپنی فوج میں ملنسار اور ہر دل عزیز تھا۔ وہ سپاہیوں سے محبت اور شفقت سے پیش آتا تھا اور سپاہی اس سے محبت کرتے تھے۔ اسے اتنی جوشیلی اور جذباتی تقریر کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔
مؤرخوں نے یہ بھی لکھاہے کہ اس کا سامنا مسلمانوں سے نہیں ہوا۔ وہ سالار تھا جب اسے خبرملتی تھی کہ فلاں میدان میں رومیوں کو شکست ہوئی ہے تو وہ شکست کی وجوہات پر غور کرتا تھا، اسے خالدؓکے متعلق بتایا گیا کہ اس جنگی چالوں کو قبل از وقت سمجھ ہی نہیں سکتا اور وہ غیر معمولی طور پر دلیر آدمی ہے۔
’’وہ کوئی جن بھوت تو نہیں۔‘‘ … منیاس نے کہا تھا۔ … ’’اس سے شکست کھانے والوں نے اسے مافوق الفطرت بنا دیا ہے۔ وہ جھوٹ بولتے ہیں۔ شکست کھانے والے اسی طرح جھوٹ بولا کرتے ہیں۔ میں ہرقل کو خالد بن ولید کی لاش دکھاؤں گا۔‘‘
…………bnb…………

رومی سالار منیاس کی قیادت میں قنسرین میں مقیم رومی فوج رکے ہوئے سیلاب کی مانند باہر نکلی۔ اس کا انداز جوشیلا اور انداز جارحانہ تھا۔ اس کی رفتار تیز تھی۔
ادھر خالدؓ کے چار ہزار سوار فاتحانہ شان سے چلے آرہے تھے۔ وہ عام کوچ کی ترتیب میں تھے۔ انہوں نے قنسرین کے قریب جاکر رکنا اور باقی فوج کاانتظار کرنا تھا۔ قنسرین سے چند میل دور حاضر ایک مقام تھا جو راستے میں آتا تھا۔ خالدؓ کادستہ جب حاضر کے قریب پہنچا تو دیکھ بھال کیلئے آگے گئے ہوئے مجاہدین میں سے ایک واپس آیا اور خالدؓ کو اطلاع دی کہ رومیوں کا ایک کثیر تعداد لشکر آرہاہے۔
’’خدا کی قسم!‘‘ … خالدؓ نے للکار کر کہا۔ … ’’میں امین الامت کا انتظار نہیں کروں گا۔‘‘
باقی لشکر امین الامت ابو عبیدہؓ کے ساتھ پیچھے آرہا تھا۔ خالدؓ کو انتظار کرناچاہیے تھا کیونکہ رومی لشکر کی تعداد زیادہ بتائی گئی تھی لیکن خالدؓ کی سرکش طبیعت انتظار پر آمادہ نہ ہوئی۔ انہوں نے اپنے دستے کو نہایت سرعت سے جنگی ترتیب میں کرلیا۔ اس سوار دستے کو پلک جھپکتے ایک ترتیب سے دوسری ترتیب میں ہوجانے کی ٹریننگ دی گئی تھی۔
دونوں فوجیں حاضر کے مقام پر آمنے سامنے آئیں۔ رومی سالار منیاس کو توقع تھی کہ مسلمان جنگ سے پہلے کے رسم و رواج کا مظاہرہ کریں گے مثلاً ان کا سالار ذاتی مقابلے کیلئے رومی سالار کو للکارے گا ایسے چند ایک مقابلے ہوں گے پھردستوں کو ترتیب میں کیاجائے گا لیکن مسلمان سوار رُکے بغیر ایسی ترتیب میں ہو گئے جسے منیاس سمجھ ہی نہیں سکا۔ اتنے میں ا س پر حملہ ہو چکا تھا۔
منیاس اپنی فوج کاحوصلہ بڑھانے کیلئے آگے تھا ۔اس کے گرد محافظوں کا حصار تھا جو خاصا مضبوط تھا۔ چند ایک مسلمان سوار اس حصار پر حملہ آور ہوئے، محافظوں نے بڑا ہی سخت مقابلہ کیا ۔رومیوں کی تعداد زیادہ تھی اس کے علاوہ انہیں اپنے سالار منیاس کے ساتھ دلی محبت تھی اس لئے وہ جم کر لڑے اور بڑی اچھی ترتیب میں تابڑ توڑ حملے کرتے رہے لیکن ان کا ہر حملہ یوں بیکار جاتاجیسے ہوا میں گھونسا مارا ہو۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا مقابلہ ایسے سواروں کے ساتھ تھا جو جم کر نہیں لڑتے تھے۔ ان کااندازکچھ اور تھا۔
حملے رومی کر رہے تھے اور نقصان بھی ان ہی کا ہو رہا تھا۔ خالدؓ خود بھی سپاہیوں کی طرح لڑ رہے تھے ۔انہیں اپنے سواروں کو چالیں بتانے کی ضرورت پیش نہیں آتی تھی۔ ایسی ضرورت منیاس کو تھی۔ وہ دیکھ رہاتھا کہ اس کی فوج کی ترتیب بکھر رہی ہے اس نے کسی ایسے مقام پر پہنچنے کی کوشش کی جہاں سے وہ اپنی فوج کودیکھ کر کوئی چال چل سکتا۔ مگر مسلمان سواروں نے اس کے محافظوں کا حصار توڑ کر اسے قتل کر دیا۔
میدانِ جنگ میں یوں ہوتا تھا کہ سالار مارا جاتا اور پرچم گر پڑتا تو فوج میں بددلی پھیل جاتی اور پسپائی شروع ہو جاتی۔ اسی لیے سپہ سالار کی موت پر پردہ ڈال دیا جاتاتھا۔ لیکن منیاس مارا گیا تو محافظوں نے اعلان کر دیاکہ سالار منیاس مارا گیا ہے۔
مسلمان خوش ہوئے کہ رومیوں میں بھگدڑ مچ جائے گی لیکن رومی غضب ناک ہو گئے۔ انہوں نے انتقام انتقام منیاس کے خون کا انتقام لو ،کے نعرے لگانے شروع کر دیئے اور ان کے حملوں میں شدت پیدا ہو گئی۔ وہ قہر بن گئے ۔ایک بار توانہوں نے مسلمان سواروں کے پاؤں اکھاڑ دیئے لیکن یہ غضب ناک انداز ان کے اپنے لیے نقصان دہ ثابت ہوا۔ انہیں صحیح طور پرطریقے سے لڑانے والا مارا گیا تھا۔ اب وہ غصے میں آئے ہوئے ہجوم کی صورت اختیار کر گئے تھے۔
خالدؓنے رومیوں کو اس کیفیت میں دیکھا تو اپنے سواروں کو نئی ہدایات دیں۔ا س کے بعد رومیوں کا جیسے قتلِ عام شروع ہو گیاہو، اس کے باوجود وہ پسپا نہیں ہو رہے تھے ۔اس کانتیجہ یہ ہو اکہ کوئی ایک بھی رومی میدان سے نہ بھاگا اور کوئی ایک بھی رومی زندہ نہ رہا۔ زیادہ تر مؤرخ متفقہ طور پر کہتے ہیں کہ منیاس کی فوج کاایک بھی سپاہی زندہ نہیں رہاتھا اور بھاگا بھی کوئی نہیں تھا۔ مسلمانوں کا جانی نقصان بہت ہی کم تھا۔
…………bnb…………
ہر قسط کے آخر میں اپنی قیمتی آراء سے مستفید فرمائیں۔

ھفت روزہ اھل حدیث

مرکزی جمعیت اھل حدیث پاکستان کا ترجمان، ہفت روزہ اھل حدیث، جامع، تحقیقی، علمی سیاسی ودیگر موضوعات پر مشتمل مضامین کا مطالعہ فرمائیں۔ خود پڑھیں اور احباب کے ساتھ شیئر کریں۔ فجزاکم اللہ خیرا۔

No comments:

Post a Comment

Start typing and press Enter to search