[Latest News][6]

خالد بن ولید

Khalid138

Muslim General, Khalid Bin Waleed

شمشیر بے نیام

سیدنا خالد بن ولیدؓ کی حیات پر عنایت اللہ التمش کے قلم سے لا زوال تحریر

قسط نمبر:  138
ابو عبیدہؓ، خالدؓ اور دیگر سالاروں کیلئے یہ ایک مسئلہ بن گیا۔ مدینہ بہت دور تھا۔ صر ف ایک طرف کا سفر کم و بیش ایک مہینے کا تھا۔ رومیوں کی طرف سے صلح کی پیشکش کامطلب یہ تھا کہ رومی شہر کا دفاع کرنے کے قابل نہیں رہے اس لئے وہ صلح کرنا چاہتے ہیں۔ اس صورت میں مسلمان سالاروں کے سامنے سیدھا راستہ تھا کہ وہ قلعے پر تابڑ توڑ حملے کرتے اور قلعہ سر کرلیتے، لیکن اسلامی احکام کے مطابق انہوں نے دشمن کو امن اور صلح کی طرف آنے کا پورا موقع دیا۔ قرآن کا یہ فرمان بڑا صاف ہے کہ دشمن جھک جائے تو اس کے ساتھ شرائط طے کرکے صلح کر لی جائے۔ لیکن امیر المومنینؓ کے آنے کیلئے بہت زیادہ وقت درکار تھا۔ سالار اس مسئلے پر غوروخوض کرنے لگے۔
’’میں ایک تجویزپیش کرتا ہوں۔‘‘ …سالار شرحبیلؓ نے کہا۔ …’’بیت المقدس والوں نے امیر المومنینؓکو کبھی نہیں دیکھا۔ ان کا قد بت ابنِ ولید جیسا ہے۔ شکل وصورت میں بھی کچھ مشابہت پائی جاتی ہے۔ وقت بچانے کی خاطر ہم یوں کر سکتے ہیں کہ تین چار دنوں بعد ابنِ ولید کو اپنے ساتھ قلعے میں لے جائیں اور کہیں کہ یہ ہیں ہمارے امیر المومنین عمر بن الخطاب۔‘‘
’’نہیں!‘‘ …ابو عبیدہؓ نے کہا۔ …’’اسقف نے بیت المقدس میں ابنِ ولید کو دیکھ لیا ہے۔ بے شک ا س کے ساتھ باتیں میں کرتا رہا ہوں اور اس کی توجہ میری طرف رہی ہو۔ ہو سکتا ہے ا س نے ابنِ ولید کو اچھی طرح نہ دیکھا ہو۔ لیکن شہر کے اندر ایسے رومی موجود ہوں گے جنہوں نے کسی میدانِ جنگ میں ابنِ ولید کواچھی طرح دیکھاہو گا۔ اس وقت کی شرمساری کو سوچو جب کوئی ہمیں یہ کہہ بیٹھے گا کہ یہ ان کا امیرالمومنین نہیں یہ تو خالد ابن الولید ہے جو میدانِ جنگ میں نعرہ لگاکر آیا کرتا تھا۔ …انا خالد ابن الولید۔‘‘ … ’’کیا میرا یہ خدشہ غلط ہے؟‘‘
’’ایسا ہو سکتا ہے امین الامت!‘‘ … خالدؓنے کہا۔ … ’’اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اسقف یا کوئی رومی سالار یہ کہہ دے کہ مدینہ سے تمہارا امیرالمومنین اتنی جلدی کیسے آگیا ہے؟‘‘
’’یہ بھی تو ہو سکتا ہے۔‘‘ … شرحبیل بن حسنہ نے کہا۔ … ’’کہ رومی ہمارے آگے یہ شرط رکھ کر اپنے امیر المونین کو بلاؤ ،ہمارے مقابلے کی تیاری میں لگ جائیں۔ یہ وقت حاصل کر رہے ہوں گے۔‘‘
’’ہم یہ خطرہ مول لے سکتے ہیں ابنِ ِحسنہ۔‘‘ … ابو عبیدہؓ نے کہا۔ … ’’لیکن ہم دروغ اور فریب کا سہارا نہیں لے سکتے۔ ہماری چال بازی کا داغ اسلام کو لگے گا۔‘‘
دو مؤرخوں نے لکھاہے کہ شرحبیلؓ کے مشورے پر خالدؓ کو بیت المقدس میں لے جاکر اسقف سفرینوس کو بتایا گیا تھا کہ یہ ہمارے امیر المومنین عمرؓ بن الخطاب ہیں اور صلح نامہ عمرؓ کی بجائے خالدؓ نے عمرؓ بن کر کیا تھا۔ لیکن آگے پیش آنے والے واقعات اس روایت کی تردید کرتے ہیں۔ زیادہ تر مؤرخوں نے لکھا ہے کہ عمرؓ کو مدینہ سے بلایا گیا تھا اور عمرؓ فوری طور پر روانہ ہو گئے تھے۔
ابو عبیدہؓ نے ایک تیز رفتار قاصد مدینہ کو دوڑا دیا۔ پیغام میں وہی باتیں لکھیں جو اسقف بیت المقدس کے ساتھ ہوئی تھیں۔ پیغام مدینہ پہنچا ہی تھا کہ وہاں مسرتوں کی لہر دوڑ گئی۔ خلیفۃ المسلمین عمرؓ کی خوشی کی انتہا نہ تھی۔ انہوں نے خاص طور پر حکم بھیجا تھا کہ بیت المقدس فتح کیا جائے۔ عمرؓ تو فتح کی خوشخبری کے منتظر تھے۔
خلیفۃ المسلمین عمرؓ ابو عبیدہؓ کا پیغام مسجدِ نبوی میں لے گئے اور پڑھ کر سب کو سنایا۔
’’تم سب مجھے کیا مشورہ دیتے ہو؟‘‘ … عمرؓ نے حاضرین سے پوچھا۔ … ’’کیا میرا جانا بہتر ہے؟ یا نہ جانا بہتر ہے؟‘‘
’’نہ جانا بہتر ہے امیر المومنین!‘‘ … عثمانؓ بن عفان نے کہا۔ … ’’تمہارے نہ جانے سے رومی سمجھیں گے کہ تم نے انہیں کوئی اہمیت نہیں دی اور تم اتنے طاقتور ہو کہ صلح کی تمہیں پرواہ ہی نہیں۔ اس کا یہ اثر ہوگا کہ رومی ہمارے مقابلے میں اپنے آپ کو حقیر جانیں گے اور جزیہ اداکرکے ہماری اطاعت قبول کرلیں گے۔‘‘
’’اﷲ تجھے اپنی امان میں رکھے ابنِ عفان!‘‘ … علیؓ نے عثمانؓ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا۔ … ’’امیرالمومنین کا جانا بہتر ہے۔ کیا تو نہیں جانتا کہ مجاہدین کب سے گھروں سے نکلے ہوئے ہیں، کب سے گرمی سردی آندھی بارش اور طوفانوں میں کھلے آسمان تلے دن گزار رہے ہیں۔جانیں قربان کر رہے ہیں۔ زخمی ہو رہے ہیں۔ اگر امیر المومنین ان کے پاس چلے جائیں گے تو ان کے تھکے ہوئے حوصلے تازہ ہو جائیں گے۔‘‘
’’بے شک بے شک!‘‘ … چند آوازیں سنائی دیں۔
’’امیر المومنین نہیں جائیں گے تو رومی قلعے کے اندر محفوظ بیٹھے رہیں گے۔‘‘ … علیؓ نے کہا۔ … ’’ انہیں کمک بھی مل جائے گی اور کیا یہ نہیں ہو سکتا کہ مجاہدین کی فتح جو ان کے سامنے کھڑی ہے وہ الٹ کر شکست بن جائے۔‘‘
حاضرین نے پرجوش طریقے سے تائید کی۔
’’مجھے جانا چاہیے۔‘‘ … امیر المومنینؓ نے کہا۔ … ’’میں ابھی روانہ ہونا چاہتاہوں۔‘‘
…………bnb…………

امیر المومنین عمرؓ بن الخطاب ایک اونٹنی پر مدینہ سے روانہ ہوئے۔ ان کے ساتھ اپنے نائبین اور مشیر تھے جن کی تعداد اور ناموں کا کسی تاریخ میں ذکر نہیں ملتا۔ وہ ایک مہینے سے کم عرصے میں جابیہ پہنچے۔ ابو عبیدہؓ نے ان کے استقبال کاانتظام جابیہ میں کیا تھااور گھوڑ سواروں کا مختصر سا دستہ امیر المومنینؓکے استقبال کیلئے آگے روانہ کر دیا تھا۔
امیر المومنینؓ جابیہ پہنچے تو ابو عبیدہؓ، خالدؓ اور یزیدؓ کو وہاں دیکھ کر حیران ہوئے۔
’’کیا تم نے ایلیا (بیت المقدس) کا محاصرہ اٹھا لیا ہے؟‘‘ … عمرؓ نے پوچھا۔ … ’’تم سب یہاں کیوں ہو؟‘‘
’’امیر المومنین!‘‘ … ابو عبیدہؓ نے کہا۔ … ’’محاصرہ عمرو بن العاص کے سپرد کر آئے ہیں۔ محاصرہ مضبوط ہے۔ ہم تیرے استقبال کیلئے یہاں موجود ہیں۔‘‘
خالدؓ اور یزیدؓ بڑی قیمتی اور زر بفت کی عبائیں پہنے ہوئے تھے۔ وہ شہزادے لگ رہے تھے۔ خالدؓ قریش کے بڑے امیر خاندان کے فرد تھے اور یزیدؓ قبیلے کے سردار ابو سفیانؓکے بیٹے تھے۔ اپنے امیر المومنینؓکے استقبال کیلئے بنے ٹھنے ہوئے تھے۔
’’خدا کی قسم! تم بے شرم ہو جو مجھے ملنے کیلئے اس شاہانہ لباس میں آئے ہو۔‘‘ … عمرؓ نے اپنے مخصوص غصے کااظہار کرتے ہوئے کہا۔ … ’’دو سال پہلے تک ہمارا کیا حال تھا؟ کیا تم نے مدینہ میں کبھی پیٹ بھر کر کھانا کھایا تھا۔ لعنت ہے اس مال و دولت پر جس نے تمہارے دماغ خراب کر دیئے ہیں۔ کیا تم میدانِ جنگ میں نہیں ہو؟ … خدا کی قسم! تم لباس کی شان و شوکت میں پڑ گئے تو تھوڑے ہی عرصے بعد تمہاری جگہ کوئی اور حکمران ہوگا۔‘‘
امیر المومنینؓکی اپنی یہ حالت تھی کہ موٹے کپڑے کا کرتا پہن رکھا تھا۔ جو اتنا بوسیدہ ہو چکا تھا کہ اس میں پیوند لگے ہوئے تھے۔ خالدؓ اور یزیدؓ نے اپنی عبائیں کھول کر امیر المومنینؓ کو دکھایا۔ دونوں نے زرہیں پہن رکھی تھیں اور تلواریں ساتھ تھیں۔
’’امیر المومنین!‘‘ … خالدؓ نے کہا۔ … ’’خوبصورت عبائیں تو پردہ ہیں۔ ہم ہتھیاروں کے بغیر نہیں ،لڑنے کیلئے تیارہیں۔‘‘
امیر المومنین ؓکے چہرے سے غصے کے آثار صاف ہو گئے وہ مطمئن نظر آنے لگے۔
’’ہمیں بہت جلد ہی بیت المقدس پہنچنا چاہیے۔‘‘ … امیر المومنینؓ نے کہا۔ … ’’رومیوں کومیں زیادہ انتظار میں نہیں رکھنا چاہتا۔‘‘
امیر المومنینؓ نے اتنے لمبے سفرکی پرواہ نہ کی اور بیت المقدس کو چل پڑے۔
…………bnb…………

امیر المومنینؓ جب بیت المقدس کے محاصرے میں پہنچے تو مجاہدین نے دیوانہ وار خوشیاں منائیں۔امیر المومنینؓکی صرف آمد ہی ان کیلئے حوصلہ افزاء تھی۔ اب تو وہ اور زیادہ خوشیاں منا سکتے تھے۔ ایلیا)بیت المقدس( کی فتح کوئی معمولی نہیں تھی۔امیرالمومنینؓ اپنی تمام تر فوج میں گھومے پھرے اور ہر ایک سے مصافحہ کیا۔ بیت المقدس ان کا اپنا شہر تھا۔ اب صرف معاہدہ لکھنا باقی تھا۔
سب سے ملتے ملاتے عصر کی نماز کا وقت ہو گیا۔ اذان دینی تھی جو کوئی بھی دے سکتا تھا۔ امیر المومنینؓ کے ساتھ جو مصاحب گئے تھے ان میں مدینہ کے مشہور مؤذن بلالؓ بھی تھے۔ بلالؓ وہ مؤذن تھے جنہیں اسلام کی تاریخ تا قیامت فراموش نہیں کرے گی۔
’’امیر المومنین!‘‘ … کسی نے کہا۔ … ’’بیت المقدس جیسا مقدس اور اہم شہر ہماری جھولی میں آپڑا ہے۔ اس ایک شہر پر فتح کیے ہوئے سینکڑوں شہر قربان کیے جا سکتے ہیں۔ ایسی عظیم کامیابی کی خوشی میں آج بلال اذان دیں تو کتنا اچھا ہو۔ ہم بیت المقدس میں بلال کی اذان کے بعد داخل ہوں گے۔‘‘
خلیفۃ المسلمین عمرؓ نے بلالؓ کی طرف دیکھا۔ بلالؓ خاموش کھڑے تھے۔ ان کے چہرے پر اداسی کا تاثر اور زیادہ گہرا ہو گیا۔ بلالؓ حبشی نسل سے تھے۔ ابتداء ہی میں اسلام قبول کر لیا تھا۔ ان کی آواز بلند سریلی اور پرسوز تھی۔ انہوں نے پہلی دفعہ اذان دی تو مسلمانوں پر تو اثر ہونا ہی تھا، دوسرے لوگ بھی مسحور ہو کررہ گئے تھے۔ یہ بلالؓ کی آواز کا جادو تھا ۔اہلِ قریش نے اس آواز کو بند کرنے کیلئے بلالؓ پر اتنا تشدد کیا تھا کہ وہ بہت دیر تک بے ہوش پڑے رہتے تھے ۔جب اٹھتے تھے تو پہلی آواز جو ان کے منہ سے نکلتی تھی وہ اﷲکانام ہوتا تھا۔
ان کی اذانیں دشت و جبل اور صحراؤں پر وجد طاری کرتی رہیں۔ لیکن رسولِ کریمﷺ کے وصال کے ساتھ ہی یہ آواز خاموش ہو گئی۔ بلالؓ نے اذان دینی چھوڑ دی۔ ان کے چہرے پر ہر وقت اداسی اور افسردگی کی سیاہ گھٹائیں چھائی رہنے لگیں۔ اتنی مدت گزر جانے کے بعد آج پہلی بار بیت المقدس کے دروازے پر امیر المومنین عمرؓ کے مصاحبوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ بیت المقد س کی فتح کے اس موقع پر بلالؓ اذان دیں۔ امیر المومنینؓ نے ان کی طرف دیکھا تو وہ خاموش رہے۔
’’بلال!‘‘ … امیرالمومنینؓ نے کہا۔ … ’’میں جانتا ہوں کہ تم کیا سوچ رہے ہو، لیکن یہ موقع ایسا ہے کہ میں خود چاہتا ہوں کہ اذان تم ہی دو۔ بیت المقدس کی فتح کے موقع پر کون ایسا ہو گا جو رسول ا ﷲ ﷺ کو یاد نہ کرنا چاہتا ہوگا؟‘‘
بلالؓ کچھ دیرخاموش رہے۔ سب کو توقع یہی تھی کہ بلالؓ اذان نہیں دیں گے۔ لیکن تھوڑی ہی دیر بعد ان کے چہرے کا تاثر بدل گیا۔ انہو ں نے اِدھر اُدھر دیکھا۔ انہیں ایک جگہ ذرا اونچی نظر آئی وہ تیز تیز قدم اٹھاتے اس جگہ جا کھڑے ہوئے۔ کانوں پر ہاتھ رکھے اور برسوں بعد بیت المقدس کی فضاء اس پر سوز آواز سے مرتعش ہونے لگی۔ جو وصالِ رسولﷺ کے ساتھ ہی خاموش ہو گئی تھی۔ امیر المومنینؓ اور ان کے مصاحبین اور تمام مجاہدین پر سناٹا طاری ہو گیا ۔جب بلال ؓکی زبان سے یہ الفاظ نکلے ’’محمد الرسول اﷲ‘‘ تو کئی ایک افراد کی دہاڑیں نکل گئیں۔ اس سے پہلے تو سب کے آنسو جاری تھے لیکن اپنے رسولﷺ کا نام سن کر سب کے جذبات کے بند ٹوٹ گئے۔ کسی کو اپنے اوپر ضبط نہ رہا۔
اذان کے بعد امیر المومنین عمرؓ بن الخطاب کی امامت میں سب نے نمازِعصر ادا کی۔
…………bnb…………

اگلے روز امیر المومنینؓ کاایک ایلچی بیت المقدس کے اندر یہ پیغام لے کر گیا کہ امیر المومنینؓصلح کا معاہدہ طے کرنے کیلئے مدینہ سے آگئے ہیں۔ اسقف سفرینوس اسی پیغام کا منتظر تھا۔وہ اپنے ساتھ چند آدمیوں کو لے کر باہر آگیا۔ معاہدے کی شرائط طے ہوئیں اور اسقف نے شہر کی چابی امیرالمومومنین عمرؓ بن الخطاب کے حوالے کردی۔ معاہدہ جو تحریر ہوا اس کے الفاظ کچھ اس طرح تھے:
’’بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم ۔ اس معاہدے کے تحت جو خلیفۃ المسلمین عمر بن الخطاب اور اسقف بیت المقدس سفرینوس کے درمیان طے پایا۔ خلیفۃ المسلمین نے ایلیا (بیت المقدس) کے باشندوں کو اس معاہدے کی رو سے امن و امان دیا۔ یہ امان ایلیا کے لوگوں کی جان و مال کیلئے ہے ۔ان کے گرجو ں اور ان کے صلیب کیلئے ہے۔ ہر عمر ہر مذہب کے فرد کیلئے ہے۔ تندرست کیلئے ،مریض کیلئے بھی ہے۔ کسی گرجے یا کسی دوسرے مذہب کی عبادت گاہ کوفاتحین کی رہائش کیلئے یا کسی اور مقصدکیلئے استعمال نہیں کیاجائے گا۔ نہ انہیں یا ان کے احاطے کے اندر کسی چیز کو نقصان پہنچایا جائے گا، نہ انہیں مسمار کیا جائے گا۔ … ‘‘
’’… گرجوں اور دیگر عبادت گاہوں میں سے نہ مال اٹھایا جائے گا نہ کوئی اور چیز غیر مسلموں پر مسلمانوں کی طرف سے مذہب کے معاملے میں کسی قسم کاجبر نہیں کیا جائے گا۔ نہ ان کے ساتھ ناگوار سلوک کیا جائے گا۔ البتہ ایلیا میں یہودی نہیں رہ سکیں گے۔ یہ فرض ایلیا کے باشندوں پر عائد ہوتا ہے کہ وہ یہودیوں رومیوں اور جرائم پیشہ افراد کو شہر سے نکال دیں۔ ایلیا کے تمام شہری دوسرے شہروں کے لوگوں کی طرح جزیہ ادا کریں گے۔ شہر سے ہمیشہ کیلئے چلے جانے والوں کی جان و مال کا تحفظ ان کی اگلی پناہ گاہ تک دیا جائے گا اور اوپر جن ملکوں کا ذکر آیا ہے انہیں چھوڑ کر باقی تمام دوسرے ملکوں کے جو لوگ اس شہر میں رہنا چاہتے ہیں رہ سکتے ہیں۔ انہیں بھی جزیہ ادا کرناہوگا۔ اگر اس شہر کا کوئی باشندہ شہر کے جانے والے رومیوں کے ساتھ جانا چاہے تو وہ خود یا اپنے خاندان کے ساتھ جا سکتا ہے۔ وہ اپنا جس قدر مال و اموال اپنے ساتھ لے جا سکتا ہے لے جائے۔ ان کی کھیتیوں میں جو فصل ہے اس کی حفاظت مسلمانوں کے خلیفہ کی ذمہ داری ہے۔ فصل کے مالک وہی ہیں۔ جنہوں نے بوئی تھی۔ شرط یہ ہے کہ وہ جزیہ ادا کریں اور فصل کاٹنے کیلئے آجائیں۔‘‘
اس معاہدے پر امیر المومنینؓنے اپنی مہر لگائی اسقف سفرینوس نے اپنے دستخط کیے اور گواہوں کے طور پر خالدؓ بن ولید اور عمروؓ بن العاص، عبدالرحمٰنؓ بن عوف اور معاویہؓ بن ابی سفیان نے دستخط کیے۔
اس کے فوراً بعد امیر المومنینؓ نے ابو عبیدہؓ اور خالدؓ کوحکم دیا کہ وہ اپنے دستوں کے ساتھ شام کے شمالی علاقوں میں چلے جائیں جہاں کچھ جگہوں پر رومی ابھی تک قلعہ بند تھے۔ جاسوسوں نے اطلاع دی تھی کہ شہنشاہ ہرقل شام کی سرحد سے تو نکل گیاہے لیکن اس کی جو فوج ابھی شام میں موجود ہے اس کیلئے ہرقل کمک تیار کر رہا ہے۔
…………bnb…………
ہر قسط کے آخر میں اپنی قیمتی آراء سے مستفید فرمائیں۔

ھفت روزہ اھل حدیث

مرکزی جمعیت اھل حدیث پاکستان کا ترجمان، ہفت روزہ اھل حدیث، جامع، تحقیقی، علمی سیاسی ودیگر موضوعات پر مشتمل مضامین کا مطالعہ فرمائیں۔ خود پڑھیں اور احباب کے ساتھ شیئر کریں۔ فجزاکم اللہ خیرا۔

No comments:

Post a Comment

Start typing and press Enter to search