[Latest News][6]

خالد بن ولید

Khalid136

Muslim General, Khalid Bin Waleed

شمشیر بے نیام

سیدنا خالد بن ولیدؓ کی حیات پر عنایت اللہ التمش کے قلم سے لا زوال تحریر

قسط نمبر:  136
وہ تعداد میں بہت تھوڑے تھے۔ ان کے ہتھیار دشمن کے مقابلے میں کم تر تھے۔ ان کے ذرائع یوں محدود تھے کہ اپنے وطن سے بہت دور تھے۔ کمک نہیں مل سکتی تھی۔ اس کا حصول دشوار تھا۔ دشمن مانند ٹڈی دل تھا۔اس کے ہتھیار برتر تھے۔ وہ اس کی اپنی زمین تھی۔ ملک اپنا قلعے اپنے تھے۔ کمک کی اس کے ہاں کمی نہیں تھی۔ اپنی بادشاہی میں سے ہزاروں کی تعداد میں لڑنے والے لوگوں کو میدان میں لے آتا تھا لیکن وہ جو تعدا دمیں تھوڑے تھے اور جو کئی کئی سالوں سے مسلسل لڑ رہے تھے اس دشمن کے سینے پر کھڑے تھے جو ان سے کہیں تین گنا اور کہیں چار گنا زیادہ طاقت ور تھا۔
وہ کون تھے جنہوں نے اس دور کے سب سے زیادہ طاقت ور دشمن کو فیصلہ کن شکست دی تھی؟
وہ صحابہ کرامؓ تھے۔
وہ تابعین کرام تھے۔
وہ مسلمان تھے۔
وہ نام کے مسلمان نہیں تھے۔
وہ جنگی طاقت کو آدمیوں اور گھوڑوں کی تعداد سے نہیں جذبے اور ایمان سے ناپتے تھے۔
یہ ایمان کی قوت کا کرشمہ تھا کہ شام میں قیصرِ روم کا پرچم اتر گیا تھا۔ جن قلعوں پر یہ پرچم لہرایا کرتا تھا ان قلعوں میں سے اب اذانیں گونج رہی تھیں۔
یرموک کے میدانِ جنگ میں چار ہزار مجاہدین نے اپنی جانوں کی قربانی دے کر رومیوں کو شام سے بے دخل کر دیا تھا۔ شہنشاہِ ہرقل جو ایک جابر جنگجو تھا اور اپنی فوج کو ایک ناقابلِ تسخیر فوج سمجھتا تھا اس حالت میں شام کی سرحد سے نکلا تھا کہ اس نے جوابی حملے کی سوچنے کے بجائے ذہنی طور پر شکست تسلیم کرلی تھی۔
اس کی فوج کے بھاگنے کا اندازکسی منظم اور طاقتور فوج جیسا نہیں رہا تھا۔ اس فوج کی آدھی نفری ماری گئی ، زخمیوں کا کچھ حساب نہ تھا، اور اب جو بھاگنے کے قابل تھے وہ افراد میں بکھر کر بھاگے۔ ان میں سے زیادہ تر نے بیت المقدس جا پناہ لی۔ اس وقت بیت المقدس ایلیا کہلاتا تھا۔یہ آخری قلعہ تھا جو رومیوں کے ہاتھ میں رہ گیاتھا۔ دو چار اور قلعے بھی تھے جو ابھی رومیوں کے پاس تھے لیکن یہ بیت المقدس جیسے بڑے نہیں تھے۔ ان کے اندر مسلمانوں کی دہشت پہنچ چکی تھی۔
مؤرخ لکھتے ہیں کہ شہریوں نے دیکھاکہ رومیوں کا سورج غروب ہو رہا ہے تو انہوں نے قیصرِ روم کی فوج کو اپنے تعاون سے محروم کردیا۔ مسلمانوں کے متعلق ان تک رائے یہ پہنچی تھی کہ مسلمان میدانِ جنگ میں سراپا قہر اور مانندِ فولاد ہیں اور حکمران کی حیثیت میں وہ ریشم جیسے نرم ہیں۔
ان قلعوں کو سر کر لیا گیا۔ کہیں ذرا سی مزاحمت ہوئی جو مسلمانوں کو روک نہ سکی اورباقی قلعوں کے دروازے بغیر مزاحمت کے کھل گئے۔ شہر یوں نے مسلمانوں کا استقبال کیا اور جزیہ اداکردیا۔ البتہ بیت المقدس ذرا بڑا شہر تھا ۔اسے سر کرنا دشوار نظر آرہا تھا۔
بیت المقدس میں رومی سالار اطربون تھا، جس کے متعلق مؤرخوں نے لکھا ہے کہ فنِ حرب و ضرب میں ہرقل کا ہم پلہ تھا۔ بعض مؤرخو ں نے اسے ہرقل کا ہم مرتبہ بھی کہا ہے۔ مسلمانوں کے جاسوس بیت المقدس تک پہنچے ہوئے تھے ان کی لائی ہوئی اطلاعوں کے مطابق اطربون جابر اور بے خوف سالار تھا۔ وہ مرتے دم تک لڑنے والا جنگجو تھا۔ بیت المقدس کے دفاع میں اسے آخری دم تک لڑنا ہی تھا کیونکہ اس خطے میں رومیوں کا یہ آخری مضبوط قلعہ تھا۔
ایک مقام اور بھی تھا جو خاصا اہم تھا۔ یہ تھا قیساریہ۔ اس کا قلعہ بھی مضبوط تھا۔ اس وقت تک مسلمان جابیہ کے مقام پر خیمہ زن تھے، یرموک کی جنگ کے بعد وہ جابیہ چلے گئے تھے ، زخمیوں کی تعداد غیر معمولی تھی اور جو زخمی نہیں تھے وہ لڑنے کے قابل نہیں رہے تھے۔ وہ تو پہلے ہی تھکن سے چور تھے ۔ جنگِ یرموک نے ان کے جسموں کا دم خم توڑ دیا تھا۔ انہیں آرام کی ضرورت تھی اور زخمیوں کی مرہم پٹی اس سے زیادہ ضروری تھی۔ اپنے زخم ٹھیک ہونے کا انتظار کرنا تھا۔
انتظار خطرناک ہو سکتا تھا۔
خطرہ یہ تھا کہ رومی ایک جنگجو قوم تھی۔ شکست تو انہیں فیصلہ کن ہوئی تھی لیکن وہ اتنی جلدی اور اتنی آسانی سے شکست کو تسلیم نہیں کرسکتے تھے۔ زیادہ پریشانی تو بیت المقدس کے متعلق تھی جہاں اطربون جیسا جری اور قابل سالار موجود تھا۔ لیکن رومیوں کے کچھ دستے بکھرے ہوئے تھے۔ جاسوس اطلاعیں دے رہے تھے کہ بعض جگہوں پر رومیوں کے سالار موجود تھے۔
ابو عبیدہؓ اور دیگر مسلمان سالار یہ خطرہ محسوس کر رہے تھے کہ رومی جوابی حملہ کریں گے۔
’’میرے رفیقو!‘‘ …ابو عبیدہؓ نے اپنے سالاروں سے کہا۔ …’’رومی حملہ ضرور کریں گے لیکن ان میں اتنا دم خم نہیں ہے کہ وہ فوری حملہ کرسکیں۔ اس کے علاوہ وہ اس طرح دور دور بکھر گئے ہیں کہ انہیں اکٹھا ہونے کیلئے بھی وقت چاہیے۔‘‘
حقیقت بھی یہی تھی کہ جس طرح مسلمانوں میں ایک ہلکا سا معرکہ لڑنے کی بھی سکت نہیں رہی تھی اس طرح رومیوں میں بھی لڑنے کا دم نہیں رہا تھا جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ ڈیڑھ لاکھ میں سے سترہزار رومی مارے گئے تھے اور جو باقی بچے تھے ان میں زیادہ زخمی تھے۔ جاسوسوں کی اطلاعیں یہ تھیں کہ رومی کہیں بھی جوابی حملے کیلئے منظم نہیں ہو رہے لیکن وہ جہاں جہاں بھی ہیں وہاں دفاعی جنگ لڑنے کیلئے تیار ہیں۔
…………bnb…………

اکتوبر ۶۳۶ء (شعبان ۱۵ ھ) کے ایک دن سالارِ اعلیٰ ابو عبیدہؓ نے اپنے سالاروں کو بلایا۔
’’میرے رفیقو!‘‘ …سالارِ اعلیٰ نے کہا۔ …’’زیادہ تر مجاہدین لڑنے کے قابل ہو گئے ہیں۔ لشکر نے بھی آرام کر لیا ہے۔ اب ہم اس قابل ہیں کہ آگے پیش قدمی کریں۔ دو جگہیں ہیں جن پر قبضہ کرنا بہت ضروری ہے۔ ایک تو قیساریہ ہے اور دوسری جگہ ہے بیت المقدس، کیا تم بتا سکتے ہو کہ ان دونوں جگہوں میں سے پہلے کس پر حملہ کریں؟‘‘
اس مسئلے پر جب بحث شروع ہوئی تو سالاروں میں اختلاف پیدا ہو گیا۔ بعض کا خیال تھا کہ یہ دونوں جگہیں دفاعی لحاظ سے مضبوط ہیں ، اس لیے ان پر یکے بعد دیگرے حملہ کیا جائے۔ کچھ یہ کہتے تھے کہ دونوں مقامات کو بیک وقت محاصرے میں لیا جائے۔ ابو عبیدہؓ ان کے درمیان فیصلہ نہ کر سکے۔
’’کیا یہ بہتر نہیں ہو گا کہ ہم یہ بات امیر المومنین سے پوچھیں کہ ہمیں قیساریہ یا بیت المقدس میں سے کس جگہ کو پہلے محاصرے میں لینا چاہیے؟‘‘ …ابوعبیدہؓ نے کہا۔ …’’میں تم سب کے جذبے اور ایثارکی قدر کرتا ہوں۔ اس کا اجر تمہیں اﷲ دے گا۔ میں کسی کی حوصلہ شکنی اپنی زبان سے نہیں کروں گا۔ الحمدﷲ دشمن اس خطے سے بھاگ رہا ہے لیکن ہمیں اپنی فتح کومکمل کرنا ہے۔ میں یہی بہتر سمجھتا ہوں کہ قاصد کو مدینہ بھیج کر امیرالمومنین کا حکم لیں۔‘‘
تمام سالاروں نے ابو عبیدہؓ کی تائید کی اور اسی وقت ایک تیز رفتار قاصد کو مدینہ اس پیغام کے ساتھ روانہ کر دیا گیا:
’’بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم،امیر المومنین حضرت عمر بن الخطاب کی خدمت میں سالارِ اعلیٰ برائے شام ابو عبیدہ بن الجراح کی طرف سے، سب تعریفیں اﷲ کیلئے ہیں اور اطاعت اﷲکے رسول محمد (ﷺ) کی ہے۔ اﷲ نے ہمیں جس فتح سے نوازا ہے وہ ہماری آئندہ نسلوں پر اس کی ذات کا بہت بڑا احسان ہے ۔تمام فتوحات کی اطلاعیں مع مالِ غنیمت مدینہ بھیجی جاتی رہی ہیں اب ہم جابیہ کے مقام پر آرام کی غرض سے رکے ہوئے ہیں۔ الحمد ﷲ زخمی بہت بہتر ہو چکے ہیں۔ اب ضرورت یہ ہے کہ ہم آگے بڑھیں اور رومیوں کو شام کی سرزمین سے ہمیشہ کیلئے بے دخل کر دیں۔ ہمارے لیے یہ فیصلہ کرنا آسان نہیں کہ ہم قیساریہ اور بیت المقدس میں سے کون سی جگہ کا انتخاب کریں۔ کیا امیر المومنین ہماری رہنمائی کریں گے؟‘‘
وہاں سے مدینہ کا سفر کم و بیش ایک ماہ کا تھا ۔قاصد کے جانے اور آنے میں کم سے کم بیس روز درکار تھے۔ ان دنوں میں زخمی مجاہدین مذید بہتر ہو گئے اور جو زخمی نہیں تھے انہیں آرام اور تیاری کیلئے مزید وقت مل گیا۔
بیت المقدس کے اندر کے ماحول پر جہاں شکست کی افسردگی شرمساری اور دہشت طاری تھی وہاں جوش و خروش بھی پایا جاتا تھا۔ یہ جوش و خروش رومی سالار اطربون کا پیدا کردہ تھا۔ وہ ابھی مسلمانوں کے مقابلے میں نہیں آیا تھا۔ اس نے سنا تو تھا اور بڑی اچھی طرح سنا تھا کہ رومی فوج کسی بھی میدان میں مسلمانوں کے مقابلے میں جم نہیں سکی لیکن اطربون نے اپنے آپ پر یہ وہم طاری کر لیا تھا کہ وہ مسلمانوں کو بیت المقدس میں شکست دے دے گا۔ اس نے مسلمانوں کا مقابلہ کرنے کیلئے پلان بنانے شروع کردیئے اور اس سلسلے میں ایک روز قیساریہ چلا گیا۔
قیساریہ میں اس نے وہاں کے سالار اور فوج کو خوفزدگی کے عالم میں دیکھا۔
’’معلوم ہوتا ہے تم نے لڑنے سے پہلے شکست تسلیم کرلی ہے۔‘‘ …اطربوں نے قیساریہ کے سالار سے کہا۔ …’’اور میں تمہیں مسلمانوں کو شکست دینے کیلئے تیار کرنے آیا ہوں۔‘‘
’’اگر ہرقل بھاگ گیا ہے تو مقابلے میں ہم بھی نہیں ٹھہر سکتے۔‘‘ …قیساریہ کے سالار نے کہا۔ …’’فوج جو میرے پاس ہے، ا س پر ان سپاہیوں کا اثر ہو گیا ہے جو یرموک سے بھاگ کر یہاں آئے ہیں۔ وہ ابھی تک آرہے ہیں نہ جانے کہاں کہاں بھٹک کر آرہے ہیں۔ ان کے چہروں پر آنکھوں میں اور باتوں میں خوف نمایاں ہوتا ہے۔
’’بزدل!‘‘ …اطربوں نے نفرت سے کہا۔ …’’لڑائیوں سے بھاگے ہوئے سپاہی اور سالار بھی ایسی ہی باتیں کیاکرتے ہیں ۔وہ اپنے دشمن کی فوج کو جنات اور بدروحوں کی فوج ثابت کرتے ہیں۔ جن کا وہ مقابلہ کرہی نہیں سکتے تھے۔ کیا تم مجھے یہ مشورہ دینا چاہتے ہو کہ ہرقل کی طرح ہم بھی مسلمانوں کے آگے ہتھیار ڈال دیں؟ تمہاری عقل پر ایساپردہ پڑ گیا ہے کہ تم یہ سوچنے کے بھی قابل نہیں رہے کہ ہرقل کی غیر حاضری میں میرا حکم چلتا ہے اور تم میرے حکم کے پابند ہو۔ ہم لڑیں گے۔‘‘
’’میں نے آپ کو فوج کی ذہنی حالت بتائی ہے۔‘‘ …قیساریہ کے سالار نے کہا۔ …’’یہ نہیں کہا کہ ہم بھاگ جائیں گے۔ آپ حکم دیں ،فوج منہ موڑ جائے گی۔ تو بھی آپ مجھے میدانِ جنگ میں ہی دیکھیں گے۔‘‘
’’فوج کو لڑانا تمہارا کام ہے۔‘‘ …اطربوں نے کہا۔ …’’تم نے باقی جو کچھ کہایہ بڑھ ہانکی ہے ۔فارسیوں نے بھی ان عربی مسلمانوں کو عرب کے بدو اور صحرائی قزاق کہا تھا ہرقل اور اس کے سالار بھی یہی کہتے مسلمانوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ کہ کسی ایک بھی مسلمان کو زندہ واپس نہیں جانے دیں گے۔ …حکم یہ ہے اور یہ موجودہ صورتِ حال کا تقاضہ ہے کہ اپنی فوج کو لڑنے کیلئے تیار کرو۔ مسلمان ایلیا (بیت المقدس) پر حملہ کریں گے۔ تمہارا کام یہ ہوگا کہ وہ جب ایلیا کو محاصرے میں لے لیں تو تم آکر انہیں محاصرے میں لے لو۔ تمہارے پاس فوج کی کمی نہیں۔ اگر تم دشمن کو مکمل محاصرے میں نہ لے سکو تو عقب سے اس کی فوج پر حملہ کرتے رہو ۔میں اپنے دستے شہر کے باہر بھیج کر اتنا سخت ہلہ بولوں گا کہ دشمن قدم جمانے کے قابل نہیں رہے گا۔ عقب میں تم ہو گے پھر سوچ یہ بد بخت کدھر سے نکل کر جائیں گے؟‘‘ …اس نے رازدار ی کے لہجے میں کہا۔ …’’مسلمان تھک کر چور ہو چکے ہیں۔ ان کی نفری کم و بیش چھ ہزار کم ہو گئی ہے۔ اب انہیں شکست دینا مشکل نہیں رہا۔‘‘
’’اور اگر وہ ایلیا کے بجائے قیساریہ میں آگئے تو کیا …‘‘
’’پھر میں تمہاری مدد کو آؤں گا۔‘‘ …اطربون نے کہا۔ …’’اور میں تمہاری مدد اسی طرح کروں گا جس طرح میں نے تہیں کہا ہے کہ میری مد دکو آنا۔‘‘
ان کے درمیان طے ہوگیاکہ دونوں میں سے کسی پر حملہ ہوا تو دوسرا اس کی مدد کو آئے گا۔ اطربون یقین سے کہتا تھا کہ مسلمان بیت المقدس آئیں گے۔
…………bnb…………

اس دور کے متعلق جب مسلمان شام پر چھا گئے تھےہرقل شام سے نکل گیا تھا اور مسلمان فلسطین پر قابض ہوتے چلے جا رہے تھے، مؤرخوں میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض نے واقعات کو گڈ مڈ کر دیا ہے۔ معرکوں کے تسلسل کو بھی آگے پیچھے کر دیا ہے۔ کہیں کہیں اموات میں مبالغہ آرائی ملتی ہے۔ رومیوں اور مسلمانوں کی نفری بھی صحیح نہیں لکھی۔
افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اکثر غیر مسلم مؤرخوں نے صحیح واقعات پیش کیے ہیں اور مسلمانوں کو خراجِ تحسین بھی پیش کیا ہے لیکن بعض مسلمان مؤرخوں اور بعدکے تاریخ نویسوں نے اپنے اپنے فرقے کے عقیدوں کے مطابق تعصب کا مظاہرہ کیا ہے اور واقعات کو غلط ملط کر دیا ہے اور جو تعصبات آج ان جانبدار تاریخ نویسوں کے ذہنوں میں بھرے ہوئے ہیں وہ انہوں نے خلفائے راشدینؓ اور مجاہدین کے چہروں پر مل دیئے ہیں۔
مثلاً امیر المومنین عمرؓ نے خالدؓ کو معزول کرکے مدینہ بلالیا تھا۔ ہم اس کی وجوہات آگے چل کر بیان کریں گے لیکن چند ایک تاریخ نویسوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ امیر المومنین عمرؓکے دل میں خالدؓ کے خلاف ذاتی رنجش کی بنا پر بغض و کینہ بھرا ہوا تھا اور اس سے یہ تاریخ نویس یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ عمرؓ کا کردار اتنا عظیم نہیں تھا جتنا بتایا جاتا ہے۔
ہم چونکہ صرف خالدؓ بن ولید سیف اﷲ کی زندگی کی کہانی سنا رہے ہیں اس لئے ہم ان جنگوں اور دیگر حالات کا زیادہ ذکر نہیں کریں گے جن کا تعلق خالدؓ کے ساتھ نہیں۔
اگر مؤرخوں اور بعد کے تاریخ نویسوں کی تحریروں کی چھان بین کی جائے تو سوائے الجھاؤ کے کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔ مثلاً ایک تو یہ پتا چلتا ہے کہ سالارِاعلیٰ ابو عبیدہؓ نے امیر المومنین عمرؓ سے بذریعہ قاصد پوچھا تھا کہ وہ قیساریہ کی طرف توجہ دیں یا بیت المقدس کی طرف؟ دوسری طرف کچھ ایسے تاریخ نویس ہیں جو لکھتے ہیں عمروؓ بن العاص نے امیر المومنینؓکو پیغام بھیجا تھا کہ بیت المقدس پر چڑھائی کریں یا کیا کریں؟ اور ایک تاریخ نویس نے یہ ظاہر کیا ہے کہ امیر المومنینؓ بیت المقدس سے تھوڑی ہی دور کسی مقام پر موجود تھے۔
پس منظر کے واقعات کو اور مستند مؤرخوں کی تحریروں کو دیکھاجائے تو امیر المومنین عمرؓ ہمیں مدینہ میں موجود نظر آتے ہیں۔ جہاں انہیں ہر محاذ کی رپورٹیں مل رہی ہیں۔ مالِ غنیمت کاپانچواں حصہ خلافت کیلئے ہر طرف سے آرہا ہے اور امیرالمومنینؓ کے ہاتھوں تقسیم ہو رہاہے اور وہ سالاروں کو خراجِ تحسین کے پیغام بھیج رہے ہیں۔
…………bnb…………
ہر قسط کے آخر میں اپنی قیمتی آراء سے مستفید فرمائیں۔

ھفت روزہ اھل حدیث

مرکزی جمعیت اھل حدیث پاکستان کا ترجمان، ہفت روزہ اھل حدیث، جامع، تحقیقی، علمی سیاسی ودیگر موضوعات پر مشتمل مضامین کا مطالعہ فرمائیں۔ خود پڑھیں اور احباب کے ساتھ شیئر کریں۔ فجزاکم اللہ خیرا۔

No comments:

Post a Comment

Start typing and press Enter to search