[Latest News][6]

خالد بن ولید

Khalid104


شمشیر بے نیام

سیدنا خالد بن ولیدؓ کی حیات پر عنایت اللہ التمش کے قلم سے لا زوال تحریر

قسط نمبر:  104
صبح طلوع ہوئی۔ابو عبیدہؓ خالدؓکے پاس آئے۔خالدؓ نے انہیں رومی سالار وردان کی سازش بتائی۔
’’وہ دس رومی مجھے قتل کرنے کیلئے گھات میں پہنچ چکے ہوں گے۔‘‘ … خالدؓنے کہا۔ … ’’میں چاہتا ہوں کہ اکیلا جاکر ان دس آدمیوں کو ختم کردوں۔ بڑا اچھا شکار ہے۔‘‘
’’نہیں ابنِ ولید!‘‘ … ابو عبیدہؓ نے کہا۔ … ’’یہ تیرا کام نہیں۔دس آدمیوں کے مقابلے میں تو قتل یا زخمی ہو سکتا ہے۔تو بڑا قیمتی آدمی ہے۔ یوں کر، دس آدمی ایسے چن لے جو بہت ہی بہادر ہوں۔انہیں وہ جگہ بتا کر بھیج دے۔‘‘
خالدؓنے دس مجاہدین منتخب کیے اور انہیں بتایا کہ کہاں کہاں جانا اور کیا کرنا ہے۔ ان میں ضرار بن الازور بھی تھے۔انہیں ان دس آدمیوں کا کماندار مقررکیا گیا۔
مشہور مؤرخ واقدی نے یہ واقعہ ذرا مختلف بیان کیا ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ طے یہ پایا تھا کہ خالدؓ اور وردان کی ملاقات ہوگی۔وردان خالدؓکو دبوچ لے گا۔اور اس کی پکار پر اس کے دس رومی گھات سے نکل کر خالدؓ کو قتل کر دیں گے۔تین اور مؤرخوں نے بھی یہ واقعہ اسی طرح بیان کیا ہے۔
وردان نے اپنے دس آدمی رات کے آخری پہر کی تاریکی میں گھات لگانے کیلئے بھیج دیئے تھے،خالدؓ نے اپنے دس آدمی اسی وقت کے لگ بھگ بھیج دیئے۔اس کے ساتھ ہی خالدؓ نے اپنے سالاروں سے کہا کہ وہ گذشتہ روز کی ترتیب سے میدانِ جنگ میں کھڑے ہو جائیں اور حملے کیلئے تیار رہیں۔
وردان نے مسلمانوں کو جنگی ترتیب میں آتے دیکھ کر جنگی ترتیب میں ہوجانے کا حکم دیااور صبح طلوع ہوتے ہی وہ شاہانہ جنگی لباس میں اس جگہ چلا گیا جہاں اس نے خالدؓ کو ملاقات کیلئے بلایا تھا۔اُدھر سے خالدؓ بھی آگئے اور دونوں ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہو گئے۔
’’او عرب کے بدو!‘‘ … وردان نے خالدؓ سے کہا۔ … ’’تو اور تیرے لوگ عرب میں بھوکے مرتے ہیں اور تُو قیصرِ روم کی شاہی فوج کے مقابلے میں آگیا ہے؟ … او لٹیرے!کیا میں نہیں جانتا کہ تم لوگ وہاں مفلسی کی بد ترین زندگی گزارتے ہو؟‘‘
’’او رومی کتے!‘‘ … خالدؓ نے غضب ناک آواز میں کہا۔ … ’’میں تجھے آخری بار کہتا ہوں اسلام قبول کر لے یا جزیہ ادا کر۔‘‘
وردان نے جھپٹ کر خالدؓکو اپنے بازوؤں میں جکڑ لیا۔
’’آؤ، آؤ!‘‘ … وردان نے اپنے دس آدمیوں کو پکارا جو قریب کہیں چھپے ہوئے تھے۔
خالدؓ کم طاقتور تو تھے نہیں لیکن وردان بھی طاقت میں کچھ کم نہ تھا۔ خالدؓنے بہت زور لگایا کہ وردان سے ذرا سا آزاد ہو جائیں، تاکہ تلوار نیام سے نکال سکیں لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔ انہوں نے دیکھا کہ دس رومی اپنی فوجی وردی میں ان کی طرف دوڑے آرہے ہیں۔ خالدؓ کو اپناآخری وقت نظر آنے لگا۔ انہیں توقع تھی کہ ضرار اور ان کے نو مجاہدین نے گھات والے دس رومیوں کو ختم کر دیا ہوگا مگر وہ دس کے دس زندہ چلے آرہے تھے۔ خالدکو خیال آیا کہ ضرار اور ان کے مجاہدین رومیوں کے ہاتھوں مارے گئے ہیں یا بروقت پہنچ نہیں سکے۔
رومی جب قریب آئے تو ایک نے خود، زرہ اور قمیض اتار کر پھینک دی، اور اﷲاکبر کا نعرہ لگایا۔ تب خالدؓنے دیکھا کہ یہ تو ضرار ہے۔ انہوں نے باقی نو کو قریب سے دیکھا تو وہ ان کے اپنے ہی منتخب کیے ہوئے مجاہدین تھے۔
یہ مذاق ضرار بن الازور نے کیا تھا۔ انہوں نے گھات میں بیٹھے ہوئے رومیوں کو بڑے اطمینان سے قتل کر دیا تھا پھر ان کی وردیاں اتار کر پہن لیں۔ انہیں معلوم تھا کہ وردان پکارے گا۔ وہ وردان کی پکار پر نکل آئے۔ وردان خوش ہو گیا کہ اس کی سازش کامیاب ہو گئی ہے۔
’’پیچھے ہٹ ابنِ ولید!‘‘ … ضرار نے تلوار نکال کر کہا۔ … ’’یہ میرا شکار ہے۔‘‘ … اور وہ وردان کی طرف بڑھنے لگے۔
’’قسم ہے تجھے اس کی جوکوئی بھی تیرا معبود ہے۔‘‘ … وردان نے خالدؓسے کہا۔ … ’’مجھے اپنی تلوار سے ختم کر اور اس شیطان کو مجھ سے دور رکھ۔‘‘
ضرار نے اپنی ایک دہشت ناک مثال قائم کر رکھی تھی، وردان نے ضرار کو ذاتی مقابلوں میں رومیوں کو کاٹتے بھی دیکھا تھا۔ اسے ڈر تھا کہ ضرار اسے اذیت دے دے کر ماریں گے، اس کیلئے اب بھاگ نکلنا نا ممکن تھا۔وہ چاہتا تھا کہ اسے جلدی مار دیا جائے۔
خالدؓ نے ضرا ر کو اشارہ کیا اور ہاتھ ان کی طرف بڑھایا۔ ضرار نے اپنی تلوار خالدؓ کو دے دی۔ وردان نے دوسری طرف منہ کر لیا، خالدؓکے ایک ہی وار سے وردان کا سر زمین پر جا پڑا۔
…………bnb…………

خالدؓ وہاں رُکے نہیں۔فوراًاپنی فوج تک پہنچے اور حملے کا حکم دے دیا۔یہ حملہ بھی گذشتہ روز کی مانند تھا۔خالدؓنے قلب اور دونوں پہلوؤں کے دستوں کو ایک ہی بار ہلہ بولنے کا حکم دیا۔انہوں نے چار ہزار مجاہدین کا محفوظہ جس کے سالار یزیدؓ بن ابی سفیان تھے، پیچھے رکھا۔
مسلمان حملہ کرتے اور پیچھے ہٹ آتے تھے اور پھر حملہ کرتے تھے ۔رومی تعداد میں بہت زیادہ تھے لیکن ان کا سالارِ اعلیٰ ان میں نہیں تھا۔اس کی جگہ ان کا سالار قُبقُلار کما ن کر رہا تھا۔رومی جم کر مقابلہ کر رہے تھے لیکن مسلمانوں کے حملے غضب ناک تھے۔ان کے سالار سپاہیوں کی طرح لڑ رہے تھے۔خود خالدؓ سالارسے سپاہی بن گئے تھے۔ رومی سالار لڑا نہیں کرتے بلکہ حکم دیا کرتے تھے۔ لیکن اس معرکے میں وہ مسلمان سالاروں کی دیکھا دیکھی سپاہیوں کی طرح لڑنے لگے۔ جنگ کی شدت اور خونریزی بڑھتی چلی گئی۔ دونوں طرف کوئی چال نہیں چلی جا رہی تھی۔ زیادہ نقصان رومیوں کا ہو رہا تھا، ان کا لشکر تہہ در تہہ تھا۔ خالدؓنے یہ سوچ کر اتنا شدید حملہ کرایا تھا کہ دشمن کا سالارِ اعلیٰ مارا جا چکا ہے اور مجاہدین یہ دیکھ کر تابڑ توڑ حملے کرتے تھے کہ رومیوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ وہ ایک دوسرے میں پھنس کہ رہ گئے ہیں۔
خالدؓحملے کا اِک اور مرحلہ شروع کرنا چاہتے تھے جس کیلئے وہ موزوں موقع دیکھ رہے تھے۔ چند گھنٹوں بعد انہیں یہ موقع ملا۔ دونوں فوجیں تھک گئی تھیں۔ رومیوں کو پتا چل گیا تھا کہ ان کا سالارِ اعلیٰ ان میں نہیں۔ البتہ دوسرے رومی سالار پورے جوش و خروش سے لڑ بھی رہے تھے اور لڑا بھی رہے تھے۔
خالدؓنے چار ہزار نفری کے محفوظہ کو جس کے سالار یزیدؓ بن ابی سفیان تھے، دشمن کے قلب پر حملے کا حکم دیا۔یہ چار ہزار مجاہدین تازہ دم تھے اور لڑائی میں شریک ہونے کیلئے اتنے بیتاب کہ نعرے لگاتے اور بے قابو ہوئے جاتے تھے۔ حکم ملتے ہی وہ رُکے ہوئے سیلاب کی طرح گئے اور اتنا شدید حملہ کیا کہ رومیوں کی صفوں کے اندر تک چلے گئے۔
مجاہدین کے سالار رومیوں کے سالار قُبقُلار کو ڈھونڈ رہے تھے۔مرکزی جھنڈا اسی کے پاس تھااور وہ وردان کا قائم مقام تھا۔پہلے بتایا جا چکا ہے کہ اس نے وردان سے کہہ دیا تھا کہ مسلمانوں کے ساتھ صلح سمجھوتہ کر لیا جائے۔ اس کی دور بین نگاہوں نے دیکھ لیا کہ مسلمان رومیوں پر غالب آجائیں گے۔ وردان نے اسے ڈانٹ دیا تھا۔
مؤرخ طبری اور ابو سعید نے لکھا ہے کہ مجاہدین کو قُبقُلار مل گیا۔ اسے دیکھ کر سب حیران رہ گئے۔ وہ سالار لگتا ہی نہیں تھا۔ وہ تو جنگ سے لا تعلق کھڑا اس نے اپنے سر پر اس طرح کپڑا لپیٹا ہوا تھا کہ اس کی آنکھیں بھی ڈھکی ہوئی تھیں اس کے محافظوں نے بے دلی سے مقابلہ کیا شاید اس لیے کہ وہ اپنے سپہ سالار کو نیم مردہ سمجھ رہے تھے انہی سے پتا چلا تھا کہ یہ ہے قُبقُلار۔ مجاہدین نے اسے اسی حالت میں قتل کر دیا، بعض مؤرخوں نے خیال ظاہر کیا ہے کہ قُبقُلار نے اپنی آنکھوں پر اس لیے کپڑا ڈال رکھا تھا کہ وہ اپنے لشکر کا قتل ِ عام نہیں دیکھ سکتا تھا۔اس کی قوتِ برداشت جواب دے گئی تھی۔
رومیوں کا مرکزی پرچم گر پڑا۔ مجاہدین اب یہ نعرے لگا رہے تھے۔
’’خدا کی قسم! ہم نے رومیوں کے دونوں سپہ سالاروں کو قتل کر دیا ہے۔‘‘
’’رومیو! تمہارا پرچم کہاں ہے؟‘‘
’’شہنشاہ ہرقل کو بلاؤ۔‘‘
’’رومیو! تمہاری صلیبیں اور جھنڈے کہاں ہیں؟‘‘
مجاہدین ِ اسلام تواپنے اﷲ و رسولﷺ اور ایک عقیدے کی خاطر لڑ رہے تھے لیکن رومی جن کے حکم سے لڑ رہے تھے وہ مارے جا چکے تھے۔
…………bnb…………

مجاہدین کے پاس ایمان کی قوت تھی، وہ جادو کی طرح رومیوں پر غالب آگئے۔ رومی بھاگنے لگے۔ان میں سے کچھ بیت المقدس کی طرف بھاگے جا رہے تھے کچھ غزہ اور بعض یافا کی طرف۔ رومیوں کی جنگی طاقت کو مکمل طور پر تباہ کرنے کیلئے خالدؓنے اپنے سوار دستوں کو حکم دیا کہ بھاگتے دشمن کا تعاقب کریں اور کسی کو زندہ نہ چھوڑیں۔
وہ ایک عبرت ناک منظر تھا۔ رومی جانیں بچانے کیلئے اِددھر اُدھر بھاگ رہے تھے اور مسلمان سوار ان کے تعاقب میں جاکر انہیں برچھیوں میں پرو رہے تھے۔ان رومیوں نے اپنی تعداد پر بھروسہ کیا تھا، شراب کے نشے کو وہ اپنی طاقت سمجھے تھے۔انہوں نے مسلمانوں کوغریب اور نادار سمجھ کر انہیں ایک ایک دینار پیش کیا تھا۔خالدؓ نے انہیں کہا تھا کہ تم سے دینار تو ہم لے ہی لیں گے۔اب ان رومیوں کو کہیں پناہ نہیں مل رہی تھی،ان کا میدانِ جنگ میں اتنا نقصان نہیں ہوا تھا جتنا میدانِ جنگ سے بھاگتے وقت ہوا۔ ان میں سے خوش قسمت وہ تھے جو بیت المقدس پہنچ گئے اور شہر میں داخل ہو گئے تھے۔
یہ قتل عام اس وقت رُکا جب سورج غروب ہو گیا اور اندھیرا اتنا کہ سواروں کو اپنے گھوڑوں کے سر نظر نہیں آتے تھے۔ اس وقت خالدؓ اپنے خیمے میں تھے۔انہیں بتایا گیا کہ داؤد نام کا اک عیسائی عرب ان سے ملنے آیا ہے۔ خالدؓ نام سنتے ہی باہر کو دوڑے۔
’’خدا کی قسم داؤد!‘‘ … خالدؓ اسے گلے لگا کر بولے۔ … ’’تو نے میری فتح آسان کر دی ہے۔ کوئی بھی انعام کافی نہیں ہو سکتا جو میں تجھے دوں … کہاں ہیں تیرے بیوی بچے؟ کسی نے ان پر ہاتھ تو نہیں اٹھایا؟‘‘
’’نہیںابنِ ولید!‘‘ … داؤد نے کہا۔ … ’’میں کوئی انعام لینے نہیں آیا۔مجھے انعام مل چکا ہے۔ دیکھ میں زندہ ہوں اورمیرا سارا خاندان زندہ ہے۔ اب ایک انعام مجھے یہ دے کہ یہ راز تیرے سینے میں رہے کہ میں نے تیری کچھ مدد کی تھی۔ روم کی شہنشاہی زندہ ہے۔ابھی تو تُو اس شہنشاہی میں داخل ہوا ہے۔‘‘
’’تیرا راز قیصرِ روم تک نہیں پہنچے گا۔‘‘ … خالدؓنے کہا۔ … ’’اور خداکی قسم!تو مالِ غنیمت کے حصے کا حقدار ہے۔ میں تجھے حصہ دوں گا اور تو جو مانگے گا دوں گا۔‘‘
چند روز بعد مدینہ میں عید جیسی خوشیاں منائی جا رہی تھیں۔خالدؓنے امیرالمومنین ابو بکر صدیقؓ کو خط لکھاتھا کہ تین گنا طاقتور رومیوں پر کس طرح فتح حاصل کی گئی ہے، جس میں پچاس ہزاررومی ہلاک ہوئے ہیں۔ اس کے مقابلے میں شہید ہونے والے مجاہدین کی تعدادچار سو پچاس تھی، خالدؓ کا یہ خط پہلے مسجد میں پڑھ کر سنایا گیا۔ پھر مدینہ کی گلیوں میں لوگوں کو اکٹھا کرکے سنایا گیا، لوگ ایک دوسرے سے بغل گیر ہونے لگے۔ مدینہ فتح و مسرت کے نعروں سے گونجنے لگا۔
خالدؓنے امیر المومنینؓ کو بھی یہی لکھا تھا کہ اب وہ دمشق کو محاصرے میں لیں گے جو شام کا یعنی روم کی شہنشاہی کا بڑا ہی اہم شہر تھا۔ روم کی شہنشاہی بہت ہی وسیع تھی۔
جب مدینہ اور گردونواح کے لوگوں کو یہ خبر ملی کہ خالدؓ رومیوں پر ایک فتح حاصل کرکے دمشق کی طرف بڑھ رہے ہیں تو کئی مسلمان خالدؓکی فوج میں شامل ہونے کیلئے تیار ہو گئے۔ ان میں ابو سفیانؓ بھی تھے جو مشہور شخصیت تھے۔ وہ اپنی بیوی ہند کے ساتھ روانہ ہو گئے۔
…………bnb…………
ہر قسط کے آخر میں اپنی قیمتی آراء سے مستفید فرمائیں۔

ھفت روزہ اھل حدیث

مرکزی جمعیت اھل حدیث پاکستان کا ترجمان، ہفت روزہ اھل حدیث، جامع، تحقیقی، علمی سیاسی ودیگر موضوعات پر مشتمل مضامین کا مطالعہ فرمائیں۔ خود پڑھیں اور احباب کے ساتھ شیئر کریں۔ فجزاکم اللہ خیرا۔

No comments:

Post a Comment

Start typing and press Enter to search